MOJ E SUKHAN

فرشتہ کالا پتھر چومتا تھا

فرشتہ کالا پتھر چومتا تھا
میں پتھر دل کو تھامے بس کھڑا تھا

مرے دل میں اندھیرے چھا گئے تھے
مرے چہرے پہ سورج اگ رہا تھا

میں یوسف بن گیا تھا بھائیوں میں
میں ان کی خواہشوں پر بک گیا تھا

مرے آقا کے ہاتھوں نے چھوا تھا
تبھی فاروق اس کو چومتا تھا

مری وہ راکھ کاہے کو کریدے
میں جس لہجے سے جل جل کر مرا تھا

اسی خاطر میں کانپا تھا ذرا سا
مجھے بیٹے سے کچھ کہنا پڑا تھا

بہتر ہیں مرے اندر سمائے
ازل سے گویا امبر کربلا تھا

عبد المجید راجپوت امبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم