MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کس کو ملی تسکین ساحل کس نے سر منجدھار کیا

کس کو ملی تسکین ساحل کس نے سر منجدھار کیا
اس طوفان سے گزرے جس نے ندی ندی کو پار کیا

اے فرزانو! دیوانوں کے جذبۂ دل کی قدر کرو
ان کی ایک نظر نے آتش آتش کو گل زار کیا

رنج محبت رنج زمانہ دونوں ہم سے خائف ہیں
ہم نے سوچ سمجھ کر دل کو سرگرم پیکار کیا

صحرا صحرا ہم نے نوک خار سے تلوے سہلائے
محفل محفل ہم نے اپنی وحشت کا اقرار کیا

ان سے کہہ دو سامنے آ کر اپنے جلوے عام کریں
خلوت ناز میں چھپ نہ سکیں گے ہم نے اگر اصرار کیا

ہم نے اپنے عشق کی خاطر زنجیریں بھی دیکھیں ہیں
ہم نے ان کے حسن کی خاطر رقص بھی زیر دار کیا

بستی بستی آج ہماری سعیٔ وفا کی شہرت ہے
ہم نے ظہیرؔ اک عالم کو پابند نگاہ یار کیا

ظہیر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم