وہ محفلیں وہ مصر کے بازار کیا ہوئے
وہ محفلیں وہ مصر کے بازار کیا ہوئےاے شہر دل ترے در و دیوار کیا ہوئے ڈسنے لگی ہیں ہم کو زمانے کی رونقیںہم جرم عاشقی کے سزا وار کیا ہوئے اتنی گریز پا تو نہ تھی عمر دوستیاے خندۂ خفی ترے اقرار کیا ہوئے پھولوں نے بڑھ کے پاؤں میں زنجیر ڈال دیوارفتگی میں […]
وہ محفلیں وہ مصر کے بازار کیا ہوئے Read More »