MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وہ محفلیں وہ مصر کے بازار کیا ہوئے

وہ محفلیں وہ مصر کے بازار کیا ہوئےاے شہر دل ترے در و دیوار کیا ہوئے ڈسنے لگی ہیں ہم کو زمانے کی رونقیںہم جرم عاشقی کے سزا وار کیا ہوئے اتنی گریز پا تو نہ تھی عمر دوستیاے خندۂ خفی ترے اقرار کیا ہوئے پھولوں نے بڑھ کے پاؤں میں زنجیر ڈال دیوارفتگی میں […]

وہ محفلیں وہ مصر کے بازار کیا ہوئے Read More »

وہ اک جھلک دکھا کے جدھر سے نکل گیا

وہ اک جھلک دکھا کے جدھر سے نکل گیااتنی تپش بڑھی کہ زمانہ پگھل گیا اب دل سے کچھ کہو تو یہ دل مانتا نہیںاے التفات یار تیرا وار چل گیا ہر بزم اس نگاہ کے گرداب میں رہیہر دور اس مزاج کے سانچے میں ڈھل گیا اب تو جنوں بھی اس کی طرف کھینچتا

وہ اک جھلک دکھا کے جدھر سے نکل گیا Read More »

یہ کاروبار چمن اس نے جب سنبھالا ہے

یہ کاروبار چمن اس نے جب سنبھالا ہےفضا میں لالہ و گل کا لہو اچھالا ہے ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شبہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے ہجوم گل میں چہکتے ہوئے سمن پوشوزمین صحن چمن آج بھی جوالا ہے ہمارے عشق سے درد جہاں عبارت ہےہمارا عشق ہوس سے بلند و

یہ کاروبار چمن اس نے جب سنبھالا ہے Read More »

روزنِ تقدیر قسط نمبر 23

#قسط_نمبر_23 #از_قلم__شیخزادی #روزن_تقدیر #episode_23 #rozan_e_taqdeer نیوی بلو تھری پیس میں لمبے لمبے ڈگ بھرتا وہ آفس میں داخل ہوابال سلیقے سے بنے آنکھوں میں بے انتہا رعب لۓ وہ اپنے روم میں چلا گیاکوٹ اسٹینڈ پر رکھ کر اسنے سب سے پہلے خانزادہ انڈسٹریز کو اپروچ کیا وہ عباد تک رسائ کا کوئ موقع ہاتھ

روزنِ تقدیر قسط نمبر 23 Read More »

روزنِ تقدیر قسط 22

قسط_نمبر_22 #از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر #episode_22 #rozan_e_taqdeer اگلی صبح موسم بالکل صاف ہوچکا تھا ہواؤں میں ٹھنڈک سی تھی ۔۔۔راستے درخت عمارتیں دھلی دھلی نکھری نکھری سی تھیں ہر چیز اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ موسم کو خوشگواری بنا رہی تھیماہشان فجر کی نماز پڑھنے کے بعد وہیں مصلح پر ہی بیٹھ گئ تھی آج اس کی

روزنِ تقدیر قسط 22 Read More »

روزنِ تقدیر قسط نمبر 21

#قسط_نمبر_21 #از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر #episode_21 #rozan_e_taqdeer عیان بیٹا آج آپ بہت خوش ہیں فاطمہ بیگم عیان کا چہرے دیکھتے بولیں جی امی یوں سمجھ لیں جس چیز کا بڑے دنوں سے انتظار تھا آج وہ ہوگیا وہ بھی خود ہی ۔۔۔۔یہ تو بڑی اچھی بات ہے اللّٰہ میرے بیٹے کے لۓ آگے بھی ایسے ہی آسانیاں

روزنِ تقدیر قسط نمبر 21 Read More »

دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتے

دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتےیاد آتے ہو تم خود ہی ہم یاد نہیں کرتے وہ جور مسلسل سے باز آ تو گئے لیکنبے داد یہ کیا کم ہے بے داد نہیں کرتے ساحل کے تماشائی ہر ڈوبنے والے پرافسوس تو کرتے ہیں امداد نہیں کرتے کچھ درد کی شدت ہے کچھ پاس محبت ہےہم

دنیائے تصور ہم آباد نہیں کرتے Read More »

جھوٹی ہی تسلی ہو کچھ دل تو بہل جائے

جھوٹی ہی تسلی ہو کچھ دل تو بہل جائےدھندھلی ہی سہی لیکن اک شمع تو جل جائے اس موج کی ٹکر سے ساحل بھی لرزتا ہےکچھ روز تو طوفاں کی آغوش میں پل جائے مجبوریٔ ساقی بھی اے تشنہ لبو سمجھوواعظ کا یہ منشا ہے مے خواروں میں چل جائے اے جلوۂ جانانہ پھر ایسی

جھوٹی ہی تسلی ہو کچھ دل تو بہل جائے Read More »

دل سے اگر کبھی ترا ارمان جائے گا

دل سے اگر کبھی ترا ارمان جائے گاگھر کو لگا کے آگ یہ مہمان جائے گا سب ہوں گے اس سے اپنے تعارف کی فکر میںمجھ کو مرے سکوت سے پہچان جائے گا اس کفر عشق سے مجھے کیوں روکتے ہو تمایمان والو میرا ہی ایمان جائے گا آج اس سے میں نے شکوہ کیا

دل سے اگر کبھی ترا ارمان جائے گا Read More »

غم ہر اک آنکھ کو چھلکائے ضروری تو نہیں

غم ہر اک آنکھ کو چھلکائے ضروری تو نہیںابر اٹھے اور برس جائے ضروری تو نہیں برق صیاد کے گھر پر بھی تو گر سکتی ہےآشیانوں پہ ہی لہرائے ضروری تو نہیں راہبر راہ مسافر کو دکھا دیتا ہےوہی منزل پہ پہنچ جائے ضروری تو نہیں نوک ہر خار خطرناک تو ہوتی ہے مگرسب کے

غم ہر اک آنکھ کو چھلکائے ضروری تو نہیں Read More »