MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ اکثر باتوں باتوں میں اغیار سے پوچھا کرتے ہیں

وہ اکثر باتوں باتوں میں اغیار سے پوچھا کرتے ہیں
یہ سر بہ گریباں دیوانے کس شے کا تقاضا کرتے ہیں

اک دن تھا کہ ساحل پر بیٹھے طوفاں پہ تبسم کرتے تھے
اب مایوسی کے عالم میں ساحل کا تماشا کرتے ہیں

خطرہ ہے وفا کے لٹنے کا مجبورئ دل بھی لازم ہے
جینے کی تمنا کرتے ہیں مرنے کا تقاضا کرتے ہیں

معصوم ستم گر کی باتیں مظلوم ادا کے افسانے
یوں رات بسر ہو جاتی ہے یوں دل کا مداوا کرتے ہیں

جب نادانی کا عالم تھا حاصل کی تمنا کرتے تھے
اب دل میں آگ لگاتے ہیں شعلوں کا تماشا کرتے ہیں

اپنے میں رہے تو رسوائی اپنے سے گئے تو سودائی
ہم مدت سے دیوانگئ دنیا کا تماشا کرتے ہیں

ظہیر کاشمیری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم