MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ڈوبنے والے کی میت پر لاکھوں رونے والے ہیں

ڈوبنے والے کی میت پر لاکھوں رونے والے ہیںپھوٹ پھوٹ کر جو روتے ہیں وہی ڈبونے والے ہیں کس کس کو تم بھول گئے ہو غور سے دیکھو بادہ کشوشیش محل کے رہنے والے پتھر ڈھونے والے ہیں سونے کا یہ وقت نہیں ہے جاگ بھی جاؤ بے خبروورنہ ہم تو تم سے زیادہ چین […]

ڈوبنے والے کی میت پر لاکھوں رونے والے ہیں Read More »

حسن کا ایک آہ نے چہرہ نڈھال کر دیا

حسن کا ایک آہ نے چہرہ نڈھال کر دیاآج تو اے دل حزیں تو نے کمال کر دیا سہتا رہا جفائے دوست کہتا رہا ادائے دوستمیرے خلوص نے مرا جینا محال کر دیا مے کدہ میں ہے قحط مے یا کوئی اور بات ہےپیر مغاں نے کیوں مجھے جام سنبھال کر دیا جتنے چمن پرست

حسن کا ایک آہ نے چہرہ نڈھال کر دیا Read More »

جب میرے راستے میں کوئی مے کدہ پڑا

جب میرے راستے میں کوئی مے کدہ پڑااک بار اپنے غم کی طرف دیکھنا پڑا ترک تعلقات کو اک لمحہ چاہئےلیکن تمام عمر مجھے سوچنا پڑا اک تشنہ لب نے چھین لیا بڑھ کے جام مےساقی سمجھ رہا تھا سبھی کو گرا پڑا آئے تھے پوچھتے ہوئے میخانے کا پتہساقی سے لیکن اپنا پتہ پوچھنا

جب میرے راستے میں کوئی مے کدہ پڑا Read More »

ساقیا تو نے مرے ظرف کو سمجھا کیا ہے

ساقیا تو نے مرے ظرف کو سمجھا کیا ہےزہر پی لوں گا ترے ہاتھ سے صہبا کیا ہے میں چلا آیا ترا حسن تغافل لے کراب تری انجمن ناز میں رکھا کیا ہے نہ بگولے ہیں نہ کانٹے ہیں نہ دیوانے ہیںاب تو صحرا کا فقط نام ہے صحرا کیا ہے ہو کے مایوس وفا

ساقیا تو نے مرے ظرف کو سمجھا کیا ہے Read More »

یا رب مری حیات سے غم کا اثر نہ جائے

یا رب مری حیات سے غم کا اثر نہ جائےجب تک کسی کی زلف پریشاں سنور نہ جائے وہ آنکھ کیا جو عارض و رخ پر ٹھہر نہ جائےوہ جلوہ کیا جو دیدہ و دل میں اتر نہ جائے میرے جنوں کو زلف کے سائے سے دور رکھرستے میں چھاؤں پا کے مسافر ٹھہر نہ

یا رب مری حیات سے غم کا اثر نہ جائے Read More »

یوں تری تلاش میں تیرے خستہ جاں چلے

یوں تری تلاش میں تیرے خستہ جاں چلےجیسے جھوم جھوم کر گرد کارواں چلے آج یوں ہی ساقیا جام ارغواں چلےجیسے بزم وعظ میں شیخ کی زباں چلے راہ غم میں ہم سے وہ یوں کشاں کشاں چلےجیسے بچ کے عشق سے حسن بدگماں چلے دل دھڑک دھڑک اٹھا یوں کسی کو دیکھ کرجس طرح

یوں تری تلاش میں تیرے خستہ جاں چلے Read More »

دوستوں دشمنوں نے لوٹ لیا

دوستوں دشمنوں نے لوٹ لیامجھ کو یکساں سبھوں نے لوٹ لیا آپ کیوں منہ پھلاکے بیٹھے ہیںیار کن قربتوں نے لوٹ لیا حسن کے پاسبان بھی ہیں وہیعشق کو جن ٹھگوں نے لوٹ لیا وصل کی ساعتیں ترس کھائیںہجر کی مدّتوں نے لوٹ لیا کچھ تھے جلوے ترے تباہی پرکچھ مجھے خواہشوں نے لوٹ لیا

دوستوں دشمنوں نے لوٹ لیا Read More »

راحتیں اپنی جائداد نہیں

راحتیں اپنی جائداد نہیںاب انہیں ہم پہ اعتماد نہیں روز اپنا بیاں بدلتے ہوکیا تمہیں خود سے اتّحاد نہیں اس حقیقت کا ذمّہ لوں کیسےعقل کا قلب سے تضاد نہیں عکس کی لغزشیں معاف کرےآئنہ اس قدر بھی شاد نہیں مصلحت ہے ، خموش بیٹھے ہیںکونسا دور ہم کو یاد نہیں زہرِ غم سے وہ

راحتیں اپنی جائداد نہیں Read More »

آشنائی کمال تک پہنچی

آشنائی کمال تک پہنچیبے کلی ماہ و سال تک پہنچی زیرِ تفتیش تھا جنون مرابات ان کے جمال تک پہنچی عاجزی مسترد ہوئی میریاور تری ضد مجال تک پہنچی پوچھئے اس صدا سے وجہِ عزاجو سدا بے خیال تک پہنچی آرزو ان کی قابلِ ترجیحچاہ میری سوال تک پہنچی اختلافِ خیال کے باعثگفتگو اشتعال تک

آشنائی کمال تک پہنچی Read More »

رنج میں بے شمار فریادیں

رنج میں بے شمار فریادیںبے دلی کی شکار فریادیں باز آئے نہ زخم بڑھنے سےدرد نے کیں ہزار فریادیں سرد مہری پہ کیوں صنم قائماے دلِ بے قرار فریادیں تجھ کو غمگین پاکے اوڑھے ہیںزردیاں سبزہ زار فریادیں ایک جیسا عذاب دونوں طرفدم بخود آر پار فریادیں عکس کس کربلا سے گزرا ہےآئنہ پُر غبار

رنج میں بے شمار فریادیں Read More »