MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

روزنِ تقدیر قسط 17

#قسط_نبمر_17 #از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر#episode_17 #rozan_e_taqdeer ۔۔۔۔۔۔۔۔******۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سنبل کینیڈا ایئرپورٹ پر پہنچ گئ تھی۔۔۔ اس نے سکون کا سانس لیا ۔۔۔۔اسے لگا تھا عیان اسے لینے آۓگا پر یہاں بھی اسے کچھ گارڈز ہی لینے آۓ اک گاڑی میں بٹھا کر اسے اک ہوٹل کے گۓ۔۔۔۔ہوٹل میں چیک ان تو کروایا لیکن روم کے بجاۓ پیچھے کے […]

روزنِ تقدیر قسط 17 Read More »

روزنِ تقدیر قسط نمبر 16

#قسط_نمبر_16 #از_قلم_شیخزادی #روزن_تقدیر #episode_16 #rozan_e_taqdeer کینیڈا کے اک گودام میں بڑا سا کنٹینر آیا اب لوگ جلدی جلدی بھاگ بھاگ کر کام کر رہے تھے ۔۔۔اک آدمی سوٹ پہنے سب کو آرڈر دے رہا تھااک دم گودام کے باہر بھگدڑ مچ گئی اور بہت سی پولیس کی گاڑیوں نے ان سب کو گھیر لیا۔۔۔سب ورکرز

روزنِ تقدیر قسط نمبر 16 Read More »

نیند کی اوٹ سے ۔۔۔۔۔۔ پکارا مجھے

نیند کی اوٹ سے ۔۔۔۔۔۔ پکارا مجھےاُس نے پھر خواب میں اتارا مجھے اُس کی آنکھوں میں ۔۔۔ ایک دریاتھاآُس نے دریا سے پھر گزارا مجھے یاد رکھے گی ۔۔۔۔۔۔۔ ایک اک پل کورات نے ۔۔۔۔ کس طرح گذارا مجھے ایک چشمہ وہاں سے ۔۔۔۔۔ جاری ہوااُس پری نے ۔۔۔۔۔ جہاں اتارا مجھے دو کنارے

نیند کی اوٹ سے ۔۔۔۔۔۔ پکارا مجھے Read More »

پارسائ کا سکہ چلاتے رہے

پارسائ کا سکہ چلاتے رہےصبح تک شیخ جی مے پلاتے رہے بزم رنداں میں مل بیٹھنے کے لئےیار کی زلف کو ھم اڑاتے رہے آج پھر تیرگی نے اجالا کیادیکھ کر شیخ جی مسکراتے رہے وہ سناتے رہے ہم کو روداد غمہم بھی ان کو غزل یہ سناتے رہے آپ کے نام پر اے مری

پارسائ کا سکہ چلاتے رہے Read More »

قیس و لیلی کے جو کردار کبھی ہوتے تھے

قیس و لیلی کے جو کردار کبھی ہوتے تھےہاں وہی رونق بازار کبھی ہوتے تھے چوم لیتے تھے جبین آنکھ سے دستک دے کرہم بھی اس شہر میں سرکار کبھی ہوتے تھے اس نے آواز لگائی ہی نہیں ہم کو کبھیہم بھی تو رونق بازار کبھی ہوتے تھے صاحب علم جنھیں فخر ہے اب شاہی

قیس و لیلی کے جو کردار کبھی ہوتے تھے Read More »

دل تباہ میں وہ آگیا تو کیا ہوگا

دل تباہ میں وہ آگیا تو کیا ہوگامرے خیالوں پہ وہ چھا گیا تو کیا ہوگا بلا کا خوف ہے دونوں کو ٹوٹ جانے کاوہ ھاتھ جوڑ کے شرما گیا تو کیا ہوگا یہ بام و در تو محبت کی اک نشانی ہیںچراغ عشق کو لہرا گیا تو کیا ہوگا بکھر نہ جاؤں کہیں ڈر

دل تباہ میں وہ آگیا تو کیا ہوگا Read More »

زندگی کا فلسفہ کھل کر عیاں ہونے لگا

زندگی کا فلسفہ کھل کر عیاں ہونے لگاجس گھڑی وہ آخرت کا رازداں ہونے لگا ہم نے اپنے آپ کی تائید کرکے پا لیاکون اس وحشی سماں کا آشیاں ہونے لگا کس لئے کرتا رھا جان وہ مجھ پر بھی نثارکس لئے وہ آج مجھ پر مہربان ہونے لگا یعنی اس کو بھی شعور وآگہی

زندگی کا فلسفہ کھل کر عیاں ہونے لگا Read More »

میری جان پر عذاب رہنے دو

میری جان پر عذاب رہنے دوکہہ رہے ہیں جناب رہنے دو چھوڑ کر اضطراب کی باتیںحالت دل خراب رہنے دو توڑ کر جبر کے پہاڑوں کوداستان گلاب رہنے دو میں نے جانا نہی کسی صورتوصل کا انتساب رہنے دو دو گھڑی ساتھ چلنے والوں کامیرے سر پر عذاب رہنے دو میں نے زنبیل کو اٹھایا

میری جان پر عذاب رہنے دو Read More »

نہ خیال کر ،نہ نڈھال کر ،میرا دل دکھا

نہ خیال کر ،نہ نڈھال کر ،میرا دل دکھامیری زندگی میری بات سن میرے پاس آ وہ کسی اشارے پہ ٹوٹ کر جو بکھر گیااسی اشکِ چشم کا واسطہ میرا جی جلا میں ازل سے جلتی ہوں رات بھر ترے ہجر میںاے چراغ عشق گمان! جا یہ اسے بتا نہ گھڑی ہے ہجر و فراق

نہ خیال کر ،نہ نڈھال کر ،میرا دل دکھا Read More »

جس کا بھی انتساب ہوتا ہے

جس کا بھی انتساب ہوتا ہےوہ تو عالی جناب ہوتا ہے یہ ہے بازار عشق کی بیٹھکاس جگہ دل خراب ہوتا ہے یار !آنکھوں سے پینے والوں کاسچ میں خانہ خراب ہوتا ہے ھائے جاناں ،عجیب وحشت ہےیہاں سب کچھ شتاب ہوتا ہے دل کے بارے میں پوچھنے والے!دل پہ ازحد عتاب ہوتا ہے در

جس کا بھی انتساب ہوتا ہے Read More »