MOJ E SUKHAN

میری جان پر عذاب رہنے دو

میری جان پر عذاب رہنے دو
کہہ رہے ہیں جناب رہنے دو

چھوڑ کر اضطراب کی باتیں
حالت دل خراب رہنے دو

توڑ کر جبر کے پہاڑوں کو
داستان گلاب رہنے دو

میں نے جانا نہی کسی صورت
وصل کا انتساب رہنے دو

دو گھڑی ساتھ چلنے والوں کا
میرے سر پر عذاب رہنے دو

میں نے زنبیل کو اٹھایا ہے
اس لئے یہ گلاب رہنے دو

جاتے جاتے وہ کہہ گیا ناہید
زندگی پر سراب رہنے دو

ناہید علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم