MOJ E SUKHAN

پارسائ کا سکہ چلاتے رہے

پارسائ کا سکہ چلاتے رہے
صبح تک شیخ جی مے پلاتے رہے

بزم رنداں میں مل بیٹھنے کے لئے
یار کی زلف کو ھم اڑاتے رہے

آج پھر تیرگی نے اجالا کیا
دیکھ کر شیخ جی مسکراتے رہے

وہ سناتے رہے ہم کو روداد غم
ہم بھی ان کو غزل یہ سناتے رہے

آپ کے نام پر اے مری جان جاں
تیر پر تیر کیوں لوگ کھاتے رہے

یا د ناہید کو کر کے اب رات بھر
آپ آنسو بھلا کیوں بہاتے رہے

ناہید علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم