MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

سی نظر میں ستارہ سا جھلملایا تھا

کسی نظر میں ستارہ سا جھلملایا تھاپھر اس کے بعد مجھے کچھ نظر نہ آیا تھا ترے حصار میں ہوں اور کچھ نہیں معلومخود آ گیا ہوں کہ تو نے مجھے بلایا تھا ہوا کی نبض بھی تھم سی گئی تھی جب اس نےپکڑ کے ہاتھ مجھے شہر میں گھمایا تھا جسے نہ پانے کا […]

سی نظر میں ستارہ سا جھلملایا تھا Read More »

کونین پر محیط ولائے حسین ہے

کونین پر محیط ولائے حسین ہےہر ذرے کی زباں پہ ثنائے حسین ہے قرطاس پر چمکتا ہوا جوہرِ قلمبے مثل کیوں نہ ہو کہ عطائے حسین ہے پرچم تو اور بھی کئی ہوں گے زمین پرپہنچا جو عرش تک وہ لِوائے حسین ہے ہر چیز کو فنا ہے جہان خراب میںتاحشر جو رہے گی صدائے

کونین پر محیط ولائے حسین ہے Read More »

جو اب مرا ہے کسی اور کا نہ ہو جائے

جو اب مرا ہے کسی اور کا نہ ہو جائےیہ چار دن کی خوشی بھی ہوا نہ ہو جائے اسی لئے مجھے رکھتا ہے اپنی مثھی میںمری نمود کہیں جا بہ جا نہ ہو جائے پلٹ رہی ہے گزشتہ رفاقتوں کی مہکپرانا ہوتا ہوا دکھ نیا نہ ہو جائے تڑپتے رہنا اسے دیکھنے کی خواہش

جو اب مرا ہے کسی اور کا نہ ہو جائے Read More »

سفر بڑھا کے چبھن آبلوں میں چھوڑ گیا

سفر بڑھا کے چبھن آبلوں میں چھوڑ گیاجدا ہوا تو کڑی الجھنوں میں چھوڑ گیا گزر گیا کوئی آئینہ خانۂ دل سےنگہ کا عکس مگر آئنوں میں چھوڑ گیا جزا کی طرح سما کر مری نگاہوں میںسزا کا رنگ مرے آنسوؤں میں چھوڑ گیا وہ کون تھا جو ہماری سلگتی سانسوں کوبنا کے برف پگھلتی

سفر بڑھا کے چبھن آبلوں میں چھوڑ گیا Read More »

ہم سے کسی کے بخت کا تارا نہیں ملا

ہم سے کسی کے بخت کا تارا نہیں ملابچھڑا جو ایک بار دوبارہ نہیں ملا کاغذ کی کشتیوں میں سواری کا شوق تھااب یہ شکائتیں ہیں کنارہ نہیں ملا خوشبو بھی سو رہی ہے ابھی پتیوں کے بیچغنچوں کو بھی ہوا کا اشارہ نہیں ملا چاہا نہیں کسی کو کبھی آپ کی طرحدنیا میں کوئی

ہم سے کسی کے بخت کا تارا نہیں ملا Read More »

اب کہاں آئے گی ہوا برداشت

اب کہاں آئے گی ہوا برداشتحبس کا دور ہے دلا برداشت عمر ہی کیا ہے خوشبوئے گل کیاور کچھ دیر اے صبا برداشت ہم نوا تو بنا لیا مجھ کوکر سکو گے مری نوا برداشت خلق سے رشتہْ امید نہ توڑاب دعا ہو کہ بد دعا برداشت کھینچ لے پاؤں خار زاروں سےورنہ صد چاک

اب کہاں آئے گی ہوا برداشت Read More »

اب کوئی ہاتھ سوالی نہیں رہنے دینا

اب کوئی ہاتھ سوالی نہیں رہنے دینایا ترا منصبِ عالی نہیں رہنے دینا ایک اک لفظ میں بھرنی ہے لہو کی حدتشعر تاثیر سے خالی نہیں رہنے دینا اس نے وہ کھیل رچانا ہے یہاں راتوں راتکوئی کردار مثالی نہیں رہنے دینا زندہ کرنی ہے بہر طور وفا کی حرمتمیں نے اس لفظ کو گالی

اب کوئی ہاتھ سوالی نہیں رہنے دینا Read More »

جیون راہ پہ چلتے چلتے مڑ کر دیکھا برسوں بعد

جیون راہ پہ چلتے چلتے مڑ کر دیکھا برسوں بعدکیا کھویا کیا پایا ہم نے آج یہ جانا برسوں بعد ایک ذرا سی دیر میں برسوں کی خاموشی ٹوٹ گئیکس نے سمے کی جھیل میں پہلا پتھر پھینکا برسوں بعد بیٹھے بیٹھے آج کسی کی یاد نے یوں انگڑائی لیاشکوں کا بے موسم بادل ٹوٹ

جیون راہ پہ چلتے چلتے مڑ کر دیکھا برسوں بعد Read More »

ایسے بچھڑے ایسے اجڑے حال نہ پوچھا دونوں نے

ایسے بچھڑے ایسے اجڑے حال نہ پوچھا دونوں نےاپنے اپنے ہونٹ پہ رکھا اک انگارہ دونوں نے کیسی کیسی دنیاؤں کے ہم دونوں نے خواب بُنےاور پھر کیسی دنیاؤں میں وقت گزارا دونوں نے اس کے سوا تو بات کوئی اور کوئی وعدہ یاد نہیںراول جھیل کے اک پتھر پر شعر لکھا تھا دونوں نے

ایسے بچھڑے ایسے اجڑے حال نہ پوچھا دونوں نے Read More »

وہ لُو تھی یا کہ بادِ بہاری، گزر گئی

وہ لُو تھی یا کہ بادِ بہاری، گزر گئیجیسی بھی زندگی تھی، گزاری ، گزر گئی پھر دیر تک کلام کیا خامشی سے مٙیںاسٹیج تک میں پہنچا تو باری ، گزر گئی اب اپنے اپنے حصے کی ہر شاخ بانٹیےاب درمیاں سے پیڑ کے آری ، گزر گئی خود سے بچھڑ کے دن بھی مجھے

وہ لُو تھی یا کہ بادِ بہاری، گزر گئی Read More »