MOJ E SUKHAN

اب تک ہمارے نور کے ہالے نہیں گئے

اب تک ہمارے نور کے ہالے نہیں گئے
ہم بجھ رہے ہیں پھر بھی اجالے نہیں گئے

ہم ایسا ڈھونڈھتے ہو زمانے میں دوسرا
ہم ایسے لوگ سانچے میں ڈھالے نہیں گئے

چھوڑا ہے ہم نے باغ کو بلبل کو پھول کو
ہم لوگ گلستاں سے نکالے نہیں گئے

ہجرت کی کلفتوں کی سزا ہم سے پوچھئے
اب تک ہمارے پاوں کے چھالے نہیں گئے

دنیا نے زور دے کے مٹایا ہمیں مگر
تاریخ سے ہمارے حوالے نہیں گئے

ان کو یہ زعم تھا کہ مرے غم اٹھائیں گے
بانٹے جو چند درد سنبھالے نہیں گئے

مدِ مقابل آکے کھڑے ہو گئے مرے
جو سانپ آستین میں پالے نہیں گئے

یہ سانسیں زندگی کی ہمیں دے کے جائیے
انکے مطالبات تھے ٹالے نہیں گئے

سید غضنفر علی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم