اب تک ہمارے نور کے ہالے نہیں گئے
ہم بجھ رہے ہیں پھر بھی اجالے نہیں گئے
ہم ایسا ڈھونڈھتے ہو زمانے میں دوسرا
ہم ایسے لوگ سانچے میں ڈھالے نہیں گئے
چھوڑا ہے ہم نے باغ کو بلبل کو پھول کو
ہم لوگ گلستاں سے نکالے نہیں گئے
ہجرت کی کلفتوں کی سزا ہم سے پوچھئے
اب تک ہمارے پاوں کے چھالے نہیں گئے
دنیا نے زور دے کے مٹایا ہمیں مگر
تاریخ سے ہمارے حوالے نہیں گئے
ان کو یہ زعم تھا کہ مرے غم اٹھائیں گے
بانٹے جو چند درد سنبھالے نہیں گئے
مدِ مقابل آکے کھڑے ہو گئے مرے
جو سانپ آستین میں پالے نہیں گئے
یہ سانسیں زندگی کی ہمیں دے کے جائیے
انکے مطالبات تھے ٹالے نہیں گئے
سید غضنفر علی