MOJ E SUKHAN

سنا ہے مسئلہ حل ہوگا تیرگی والا

سنا ہے مسئلہ حل ہوگا تیرگی والا
خدا درخت لگائے گا روشنی والا

میں تازہ تازہ لطیفہ لئے پھرا دن بھر
ملا نہیں کوئ چہرہ مجھے ہنسی والا

وگرنہ جہل کے زُمرے میں طفلِ مکتب کو
سبق پڑھا دیا جاتا ہے آگہی والا

لپٹ گئی تھی مجھے راستے میں الّہڑ رُت
مسَک گیا تھا مرا چولا بوسکی والا

پرانے شہر کی ہر چیز بک گئی آخر
ترا دریچہ بھی کوچہ بھی چاندنی والا

شجر سے ٹوٹ گیا برگِ زرد کا رشتہ
شکست ہوگیا پیمان دوستی والا

سعید صاحب

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم