سنا ہے مسئلہ حل ہوگا تیرگی والا
خدا درخت لگائے گا روشنی والا
میں تازہ تازہ لطیفہ لئے پھرا دن بھر
ملا نہیں کوئ چہرہ مجھے ہنسی والا
وگرنہ جہل کے زُمرے میں طفلِ مکتب کو
سبق پڑھا دیا جاتا ہے آگہی والا
لپٹ گئی تھی مجھے راستے میں الّہڑ رُت
مسَک گیا تھا مرا چولا بوسکی والا
پرانے شہر کی ہر چیز بک گئی آخر
ترا دریچہ بھی کوچہ بھی چاندنی والا
شجر سے ٹوٹ گیا برگِ زرد کا رشتہ
شکست ہوگیا پیمان دوستی والا
سعید صاحب