MOJ E SUKHAN

سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو

سرخ موسم کی کہانی ہے پرانی ہو نہ ہو
آسماں کا رنگ آگے آسمانی ہو نہ ہو

خواب میں مجھ کو نظر آتی ہیں بھیگی سیپیاں
آنکھ کھلنے پر تری آنکھوں میں پانی ہو نہ ہو

ساتھ ہوتی ہے مرے ہر گام پر سنجیدگی
ہو رہی ہے دور اب مجھ سے جوانی ہو نہ ہو

ہر جگہ نکلے گی تیری بات مجھ کو دیکھ کر
تذکرہ تیرا کہیں میری زبانی ہو نہ ہو

روشنی دیتے رہیں گے مجھ کو زخموں کے چراغ
اب اندھیرے میں کہیں سے ضو فشانی ہو نہ ہو

اک طرف میری انا ہے اک طرف تیری خوشی
آ گیا میرے لیے پل امتحانی ہو نہ ہو

زہر کا پانی میں ہونا طے شدہ ہے احترامؔ
آگہی کے گھاٹ پر دریا میں پانی ہو نہ ہو

احترام الاسلام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم