ایسا بھی کیا ہے اُس میں،اُسے چھوڑتا نہیں
جو شخص تیرا ہوکے بھی تیرا ہُوا نہیں
ملنے چلا بھی جاؤں تو کچھ بولتا نہیں
میں دوستوں میں اس لیے اب بیٹھتا نہیں
انکار کردے مجھ سے جو ملنے سے ایک بار
اُس کی طرف پلٹ کے کبھی دیکھتا نہیں
اپنے پہ اختیار چلاتا بھی کب تلک
خود کو کہیں بھی جانے سے اب روکتا نہیں
کیسی گزر رہی ہے سبھی پوچھتے تو ہیں
کیسے گزارتا ہوں کوئی پوچھتا نہیں
ویسے تو مجھ میں ضبط ہے بے انتہا مگر
جب بولنے پہ آؤں تو پھر سوچتا نہیں
تونے تو بس سُنا ہے میں بیٹھا ہوں اُسکے پاس
جو سچ کہوں تو اتنا بھی بابر بُرا نہیں
فیض عالم بابر