MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ایک دیے نے صدیوں کیا کیا دیکھا ہے بتلائے کون

ایک دیے نے صدیوں کیا کیا دیکھا ہے بتلائے کون
چھوڑو اگلے وقتوں کے قصے پھر سے دہرائے کون

اب بھی کھڑی ہے سوچ میں ڈوبی اجیالوں کا دان لئے
آج بھی ریکھا پار ہے راون سیتا کو سمجھائے کون

اپنا اپنا آسن چھوڑ کے ہر مورت اٹھ آئی ہے
سونے کی دیواروں میں رہ کر پاتھر کہلائے کون

جس نے دیے کی کالک کو بھی ماتھے کا سندور کیا
اپنے گھر کی اس دیوار سے اپنا بھید چھپائے کون

جانے کتنے راز کھلیں جس دن چہروں کی راکھ دھلے
لیکن سادھو سنتوں کو دکھ دے کر پاپ کمائے کون

ایک نیا سپنا بنتا ہے اور بن کر اس سوچ میں ہے
صدیوں سے آپس میں الجھے دھاگوں کو سلجھائے کون

اب بھی بزرگوں کی باتیں سن کر اچھا تو لگتا ہے
پر ان گرتی دیواروں سے اپنی پیٹھ لگائے کون

عزیز بانو دراب وفا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم