MOJ E SUKHAN

اپنی بیتی ہوئی رنگین جوانی دے گا

اپنی بیتی ہوئی رنگین جوانی دے گا
مجھ کو تصویر بھی دے گا تو پرانی دے گا

چھوڑ جائے گا مرے جسم میں بکھرا کے مجھے
وقت رخصت بھی وہ اک شام سہانی دے گا

عمر بھر میں کوئی جادو کی چھڑی ڈھونڈوں گی
میری ہر رات کو پریوں کی کہانی دے گا

ہم سفر میل کا پتھر نظر آئے گا کوئی
فاصلہ پھر مجھے اس شخص کا ثانی دے گا

میرے ماتھے کی لکیروں میں اضافہ کر کے
وہ بھی ماضی کی طرح اپنی نشانی دے گا

میں نے یہ سوچ کے بوئے نہیں خوابوں کے درخت
کون جنگل میں لگے پیڑ کو پانی دے گا

عزیز بانو دراب وفا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم