MOJ E SUKHAN

دل بنو دل کا مدعا بھی بنو

دل بنو دل کا مدعا بھی بنو
ساز بھی ساز کی صدا بھی بنو

تم نے ہی دل کو درد بخشا ہے
تم ہی اس درد کی دوا بھی بنو

جس محبت کی ابتدا ہو تم
اس محبت کی انتہا بھی بنو

تم خدا ہو مجھے نہیں انکار
لطف جب ہے کہ ناخدا بھی بنو

دوست بننا برا نہیں سرشارؔ
شرط یہ ہے کہ با وفا بھی بنو

جیمنی سرشار

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم