MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

تجھے پسند جو دل کی لگن نہیں آئی

تجھے پسند جو دل کی لگن نہیں آئی
مجھے بھی راس تری انجمن نہیں آئی

اڑا سا رنگ ہے کیوں وقت کے مسیحاؤ
ابھی تو منزل دار و رسن نہیں آئی

تڑپتا ہی رہا یعقوب دار عہد کہن
ہوائے یوسف گل پیرہن نہیں آئی

ستم شعار تو تھا غیر بھی مگر اس کو
جفا طرازیٔ اہل وطن نہیں آئی

جو دھوپ بن کے چمک جاتی دل کے آنگن میں
تری نظر کی وہ رنگیں کرن نہیں آئی

جو پیش خیمہ بنے انقلاب کا اب تک
جبین وقت پہ ایسی شکن نہیں آئئ

سید احتشام حسین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم