MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کچھ اب کے بہاروں کا بھی انداز نیا ہے

کچھ اب کے بہاروں کا بھی انداز نیا ہے
ہر شاخ پہ غنچے کی جگہ زخم کھلا ہے

دو گھونٹ پلا دے کوئی مے ہو کہ ہلاہل
وہ تشنہ لبی ہے کہ بدن ٹوٹ رہا ہے

اس رند سیہ مست کا ایمان نہ پوچھو
تشنہ ہو تو مخلوق ہے پی لے تو خدا ہے

کس بام سے آتی ہے تری زلف کی خوشبو
دل یادوں کے زینے پہ کھڑا سوچ رہا ہے

کل اس کو تراشو گے تو پوجے گا زمانہ
پتھر کی طرح آج جو راہوں میں پڑا ہے

دیوانوں کو سودائے طلب ہی نہیں ورنہ
ہر سینے کی دھڑکن کسی منزل کی صدا ہے

فارغ بخاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم