MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہے ارتباط شکن دائروں میں بٹ جانا

ہے ارتباط شکن دائروں میں بٹ جاناچمن کا موجۂ باد صبا سے کٹ جانا کرن کے حق میں یہ سورج کا فیصلہ کیوں ہےجو فرش خاک پکارے تو دور ہٹ جانا میں پر شکستہ نہ تھا بادلوں کے بیچ مگرمری اڑان کا زنجیر سے لپٹ جانا یہ ساز و رخت دل بہرہ مند کیا شے […]

ہے ارتباط شکن دائروں میں بٹ جانا Read More »

جو ڈر اپنوں سے ہے غیروں سے وہ ڈر ہو نہیں سکتا

جو ڈر اپنوں سے ہے غیروں سے وہ ڈر ہو نہیں سکتایہ وہ خنجر ہے جو سینے سے باہر ہو نہیں سکتا جو سچ پوچھو تو یہ تصویر بھی ہے سانحہ جیسیکسی بھی سانحے پر کوئی ششدر ہو نہیں سکتا کھٹکتی ہے کسی شے کی کمی اس دار فانی میںشکستہ بام و در جس کے

جو ڈر اپنوں سے ہے غیروں سے وہ ڈر ہو نہیں سکتا Read More »

خرد اے بے خبر کچھ بھی نہیں ہے

خرد اے بے خبر کچھ بھی نہیں ہےنہ ہو سودا تو سر کچھ بھی نہیں ہے چمک ساری درون شاخ گل ہےنہال و شاخ پر کچھ بھی نہیں ہے خلا میں بال و پر مائل بہ پرواززمیں پر گھر شجر کچھ بھی نہیں ہے حقیقت بھی ہے پابند تغیرجہاں میں معتبر کچھ بھی نہیں ہے

خرد اے بے خبر کچھ بھی نہیں ہے Read More »

لرز رہا تھا فلک عرض حال ایسا تھا

لرز رہا تھا فلک عرض حال ایسا تھاشکستگی میں زمیں کا سوال ایسا تھا کمال ایسا کہ حیرت میں چرخ نیلی فامشجر اٹھا نہ سکا سر زوال ایسا تھا کسی وجود کی کوئی رمق نہ ہو جیسےدراز سلسلۂ ماہ و سال ایسا تھا کھلا ہوا تھا بدن پر جراحتوں کا چمنکہ زخم پھیل گیا اندمال

لرز رہا تھا فلک عرض حال ایسا تھا Read More »

کسی خیال کی رو میں تھا مسکراتے ہوئے

کسی خیال کی رو میں تھا مسکراتے ہوئےمگر وہ چونک پڑا تھا نظر ملاتے ہوئے چمک تھی اک پس دیوار صاعقہ بر دوشکہ طاق و در تھے شب ماہ میں نہاتے ہوئے مگر نوشتۂ دیوار لا زوالی ہےزمانہ کروٹیں لیتا ہے آتے جاتے ہوئے کبھی کبھی کوئی لمحہ بھی جاودانی ہےگزر گئیں کئی صدیاں یہی

کسی خیال کی رو میں تھا مسکراتے ہوئے Read More »

نہ جانے جائے کہاں تک یہ سلسلہ دل کا

نہ جانے جائے کہاں تک یہ سلسلہ دل کاوہ مل بھی جائے تو ملتا نہیں صلہ دل کا برس رہی تھیں بہاریں ترس رہی تھی زمیںسفر تمام ہوا پھول کب کھلا دل کا کہاں ہے وہ شہ خوبی کہاں دریچۂ شبگئے وہ دن کہ سماعت میں تھا گلہ دل کا وہی خرابیٔ جاں کا سبب

نہ جانے جائے کہاں تک یہ سلسلہ دل کا Read More »

پیچ در پیچ سوالات میں الجھے ہوئے ہیں

پیچ در پیچ سوالات میں الجھے ہوئے ہیںہم عجب صورت حالات میں الجھے ہوئے ہیں ختم ہونے کا نہیں معرکۂ عشق و ہوسمسئلے سارے مفادات میں الجھے ہوئے ہیں کس خسارے میں نظر ہے کہ سمٹ جاتی ہےکچھ ابھی دائرۂ ذات میں الجھے ہوئے ہیں ان میں تو مجھ سے زیادہ ہے پریشاں نظریآئینے شہر

پیچ در پیچ سوالات میں الجھے ہوئے ہیں Read More »

شوق وارفتہ کو ملحوظ ادب بھی ہوگا

شوق وارفتہ کو ملحوظ ادب بھی ہوگاشرط ہے مال عرب پیش عرب بھی ہوگا لب و رخسار میں ہوگی گل و مہتاب کی باتآنکھ میں تذکرۂ بنت عنب بھی ہوگا مان لیتا ہے مری بات مرا حیلہ طرازاور سب وعدوں میں اک وعدۂ شب بھی ہوگا عشق وہ شے ہے کہ برفیلے نہاں خانوں میںسرد

شوق وارفتہ کو ملحوظ ادب بھی ہوگا Read More »

وہ خود کو میرے اندر ڈھونڈتا ہے

وہ خود کو میرے اندر ڈھونڈتا ہےوہ صورت ہے یہ صورت آشنا ہے مگر یہ اپنے اپنے دائرے ہیںکوئی نغمہ کوئی نغمہ سرا ہے وہ بادل ہے تو کیوں ہے جوئے کم آبسمندر ہے تو کیوں پر تولتا ہے ندی کے درمیاں سیدھی سڑک ہےندی کے پار کچا راستہ ہے وہ ناموجود ہر شے میں

وہ خود کو میرے اندر ڈھونڈتا ہے Read More »

زیب اس کو یہ آشوب گدائی نہیں دیتا

زیب اس کو یہ آشوب گدائی نہیں دیتادل مشورۂ ناصیہ سائی نہیں دیتا کس دھند کی چادر میں ہے لپٹی کوئی آوازدستک کے سوا کچھ بھی سنائی نہیں دیتا ہے تا حد امکاں کوئی بستی نہ بیاباںآنکھوں میں کوئی خواب دکھائی نہیں دیتا عالم بھی قفس رنگ ہے ایسا کہ نظر کواس دام تحیر سے

زیب اس کو یہ آشوب گدائی نہیں دیتا Read More »