MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں

اس ایک ڈر سے خواب دیکھتا نہیں
جو دیکھتا ہوں میں وہ بھولتا نہیں

کسی منڈیر پر کوئی دیا جلا
پھر اس کے بعد کیا ہوا پتا نہیں

میں آ رہا تھا راستے میں پھول تھے
میں جا رہا ہوں کوئی روکتا نہیں

تری طرف چلے تو عمر کٹ گئی
یہ اور بات راستہ کٹا نہیں

اس اژدھے کی آنکھ پوچھتی رہی
کسی کو خوف آ رہا ہے یا نہیں

میں ان دنوں ہوں خود سے اتنا بے خبر
میں بجھ چکا ہوں اور مجھے پتا نہیں

یہ عشق بھی عجب کہ ایک شخص سے
مجھے لگا کہ ہو گیا ہوا نہیں

تہذیب حافی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم