MOJ E SUKHAN

وہ خود کو میرے اندر ڈھونڈتا ہے

وہ خود کو میرے اندر ڈھونڈتا ہے
وہ صورت ہے یہ صورت آشنا ہے

مگر یہ اپنے اپنے دائرے ہیں
کوئی نغمہ کوئی نغمہ سرا ہے

وہ بادل ہے تو کیوں ہے جوئے کم آب
سمندر ہے تو کیوں پر تولتا ہے

ندی کے درمیاں سیدھی سڑک ہے
ندی کے پار کچا راستہ ہے

وہ ناموجود ہر شے میں ہے موجود
یہ عالم بھی عجب حیرت فزا ہے

نہ جانے کیا سر نظارہ ہوگا
اسے دیکھا نہیں دل مبتلا ہے

سید امین اشرف

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم