MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ایسا تہ افلاک خرابہ نہیں کوئی

ایسا تہ افلاک خرابہ نہیں کوئیاس دشت سے زندہ کبھی لوٹا نہیں کوئی ہیبت وہ صداؤں میں کہ لرزے در و دیوارگزرے وہ شب و روز کہ سویا نہیں کوئی ویران سی ویران ہوئی دھیان کی بستیچہرہ کسی چلمن سے جھلکتا نہیں کوئی سر پھوڑ کے لوٹ آتی ہے جاتی ہے جو آوازکیا گنبد آفاق […]

ایسا تہ افلاک خرابہ نہیں کوئی Read More »

دور تک چاروں طرف میرے سوا کوئی نہ تھا

دور تک چاروں طرف میرے سوا کوئی نہ تھاپھر پلک جھپکی تو کیا دیکھا کہ خود میں بھی نہ تھا اک تڑپ بجلی کی اور دیوار و در مٹی کے ڈھیراک تڑپ شعلے کی اور دریاؤں میں پانی نہ تھا دائرے بنتی صدائیں چھو کے جب حد افقاپنے مرکز کی طرف لوٹیں تو کچھ باقی

دور تک چاروں طرف میرے سوا کوئی نہ تھا Read More »

اک بے ثبات عکس بنا بے نشاں گیا

اک بے ثبات عکس بنا بے نشاں گیامیں گنج بے بہا تھا مگر رائیگاں گیا بھٹکا میں اپنی ذات کی وسعت میں سو بہ سومیں اپنی جستجو میں کراں تا کراں گیا تحریر اک اور تیر کے تحلیل ہو گئیاک اور نقش لوح‌ زمان و مکاں گیا قائم ہوئے دلوں کے ابد موج رابطےاک جنبش

اک بے ثبات عکس بنا بے نشاں گیا Read More »

گرفت زیست میں ہوں قید بے حصار میں ہوں

گرفت زیست میں ہوں قید بے حصار میں ہوںعذاب عرصہ گہہ جبر و اختیار میں ہوں خیال ہے تو ابھی ڈھونڈ پھر ملوں نہ ملوںابھی میں تیرے اڑائے ہوئے غبار میں ہوں بھڑک رہا ہے بدن روح کو خبر بھی نہیںیہ کیا مقام ہے یہ کیسے شعلہ زار میں ہوں میں کون ہوں ترے نزدیک

گرفت زیست میں ہوں قید بے حصار میں ہوں Read More »

ہر گام پہ آوارگی و در بدری میں

ہر گام پہ آوارگی و در بدری میںاک دھیان کا سایہ ہے مری ہم سفری میں تا حد نظر پگھلی ہوئی ریت کا دریاکس سمت نکل آئے ہیں یہ بے خبری میں کس کی طرب انداز نظر گھول رہی ہےاندوہ و غم و سوز مزاج بشری میں کیا کوئی کہیں کنج خیابان سکوں ہےاے دشت

ہر گام پہ آوارگی و در بدری میں Read More »

ان چٹختے پتھروں پر پاؤں دھرنا دھیان سے

ان چٹختے پتھروں پر پاؤں دھرنا دھیان سےڈھل چکی ہے شام وادی میں اترنا دھیان سے جامد و ساکت سہی دیوار و در بہرے نہیںگھر کی تنہائی ہو پھر بھی بات کرنا دھیان سے کان مت دھرنا کسی آواز پر کیسی بھی ہوکوئی روکے بھی تو رستے میں ٹھہرنا دھیان سے دیکھنا سایہ کہیں کوئی

ان چٹختے پتھروں پر پاؤں دھرنا دھیان سے Read More »

جی نہیں لگتا کتابوں میں کتابیں کیا کریں

جی نہیں لگتا کتابوں میں کتابیں کیا کریںکیا پڑھیں پڑھ کر بجھی بے نور سطریں کیا کریں کچھ عجب حالت ہے اے دل کچھ سمجھ آتا نہیںسو رہیں گھر جا کے یا گلیوں میں گھومیں کیا کریں واسطہ پتھر سے پڑ جائے جہاں سوچوں وہاںکیا کریں زور بیاں قلمیں دواتیں کیا کریں ایسی یخ بستہ

جی نہیں لگتا کتابوں میں کتابیں کیا کریں Read More »

جدا بھی ہو کے وہ اک پل کبھی جدا نہ ہوا

جدا بھی ہو کے وہ اک پل کبھی جدا نہ ہوایہ اور بات کہ دیکھے اسے زمانہ ہوا نہ پوچھ میرا پتہ موجۂ ہوا ہوں میںبھلا ہوا کا بھی کوئی کبھی ٹھکانہ ہوا ہر ایک سمت صحیفے کھلے پڑے تھے یہاںترا نصیب کہ تو حرف آشنا نہ ہوا پناہ ملتی کسے میری کبریائی سےخدا کا

جدا بھی ہو کے وہ اک پل کبھی جدا نہ ہوا Read More »

کیسی کیسی تھیں انہی گلیوں میں زیبا صورتیں

کیسی کیسی تھیں انہی گلیوں میں زیبا صورتیںیاد اک اک موڑ پہ آتی ہیں کیا کیا صورتیں نیم شب ہوتے ہیں وا جس دم دریچے یاد کےکس ادا سے جھانکتی ہیں اب وہ رعنا صورتیں صورتیں کچھ دیکھ کر ایسا بھی آتا تھا خیالخاک سے ایسی کہاں ہوتی ہیں پیدا صورتیں لوٹ کر پہلے پہل

کیسی کیسی تھیں انہی گلیوں میں زیبا صورتیں Read More »

قریہ قریہ خاک اڑائی کوچہ گرد فقیر ہوئے

قریہ قریہ خاک اڑائی کوچہ گرد فقیر ہوئےپورب پچھم ڈھونڈا اس کو آخر گوشہ گیر ہوئے کون ہیں یہ کیا ربط تھا ان سے کیا کہئے کچھ یاد نہیںیہ چہرے کب دل میں اترے کس لمحے تصویر ہوئے سو پیرائے ڈھونڈے پھر بھی آج کے دن تک عاجز ہیںہائے وہ بات جو کہہ بھی نہ

قریہ قریہ خاک اڑائی کوچہ گرد فقیر ہوئے Read More »