MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

میں صدقے تجھ پہ ادا تیرے مسکرانے کی

غزل میں صدقے تجھ پہ ادا تیرے مسکرانے کی سمیٹے لیتی ہے رنگینیاں زمانے کی جو ضبط شوق نے باندھا طلسم خودداری شکایت آپ کی روٹھی ہوئی ادا نے کی کچھ اور جرأت دست ہوس بڑھاتی ہے وہ برہمی جو ہو تمہید مسکرانے کی کچھ ایسا رنگ مری زندگی نے پکڑا تھا کہ ابتدا ہی […]

میں صدقے تجھ پہ ادا تیرے مسکرانے کی Read More »

تھی ابھی صبح ابھی شام ہوئی جاتی ہے

غزل تھی ابھی صبح ابھی شام ہوئی جاتی ہے زندگی گردش ایام ہوئی جاتی ہے زندگی مہلت توفیق خم آشامی تھی زندگی فرصت یک جام ہوئی جاتی ہے زندگی طائر صحرا تھی بہ شوق پرواز زندگی صید تہہ دام ہوئی جاتی ہے زندگی ڈال رہی تھی جو ستاروں پہ کمند اب تماشائے لب بام ہوئی

تھی ابھی صبح ابھی شام ہوئی جاتی ہے Read More »

بدل جاتے ہیں دل حالات جب کروٹ بدلتے ہیں

غزل بدل جاتے ہیں دل حالات جب کروٹ بدلتے ہیں محبت کے تصور بھی نئے سانچوں میں ڈھلتے ہیں تبسم جب کسی کا روح میں تحلیل ہوتا ہے تو دل کی بانسری سے نت نئے نغمے نکلتے ہیں محبت جن کے دل کی دھڑکنوں کو تیز رکھتی ہے وہ اکثر وقت کی رفتار سے آگے

بدل جاتے ہیں دل حالات جب کروٹ بدلتے ہیں Read More »

بقدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا

غزل بقدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا اگر نہ ہو یہ فریب پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا بس ایک احساس نارسائی نہ جوش اس میں نہ ہوش اس کو جنوں پہ حالت ربودگی کی خرد پہ عالم غنودگی کا ہے روح تاریکیوں میں حیراں بجھا ہوا ہے چراغ منزل

بقدر پیمانۂ تخیل سرور ہر دل میں ہے خودی کا Read More »

کچھ عجب حال ہے مرے جی کا

غزل کچھ عجب حال ہے مرے جی کا اس کے ماتھے پہ دیکھ کر ٹیکا بزم میں اس طرح وہ در آئے شمع کا رنگ پڑ گیا پھیکا زندگی تجھ سے چھوٹ کر پیارے ایک جنجال ہے مرے جی کا اے پپیہے تجھے خدا کی قسم نام برسات میں نہ لے پی کا کسی صورت

کچھ عجب حال ہے مرے جی کا Read More »

آہ کو تھی جو کبھی حسرت تاثیر سو ہے

غزل آہ کو تھی جو کبھی حسرت تاثیر سو ہے تھی جو بگڑی ہوئی عشاق کی تقدیر سو ہے دل میں اس کے نہ ہوئی راہ کسی صورت سے تھی جو تقدیر میں ناکامیٔ تدبیر سو ہے مل کے دیکھا تو وہ کچھ اور ہی نکلا لیکن دل میں اک اس کی بنائی تھی جو

آہ کو تھی جو کبھی حسرت تاثیر سو ہے Read More »

بھلا کیا ہیں برکھا کے موسم کے کہنے

غزل بھلا کیا ہیں برکھا کے موسم کے کہنے حسینوں نے پہنے ہیں پھولوں کے گہنے نہ ہو ان حسینوں میں کیوں جامہ زیبی لباس محبت جنہوں نے ہوں پہنے وفا رنگ لائی ہے میری کہ مجھ کو وہ ہیں بے وفائی کے دیتے الہنے مقرر تھا ملنا مرا ان سے لیکن مقدر میں تھے

بھلا کیا ہیں برکھا کے موسم کے کہنے Read More »

روز و شب حسن رخ یار پہ حیراں ہونا

غزل روز و شب حسن رخ یار پہ حیراں ہونا ہے محبت میں یہی صاحب ایماں ہونا سانحہ یہ بھی عجب عشق میں مجھ پر گزرا میری امید کے گلشن کا بیاباں ہونا حسن کے ناخن تدبیر سے کیا مشکل ہے عشق کے عقدۂ دشوار کا آساں ہونا قطرۂ اشک کی چلمن سے نگہ نے

روز و شب حسن رخ یار پہ حیراں ہونا Read More »

رہی اگرچہ نہ مجھ کو کبھی رلائے بغیر

غزل رہی اگرچہ نہ مجھ کو کبھی رلائے بغیر قرار دل کو نہیں تیری یاد آئے بغیر کوئی یہ حسن کی دیکھے تو شان بے تابی رہا گیا نہ مرے دل میں ان سے آئے بغیر ہنسا ہنسا کے مجھے اور خود بھی ہنس ہنس کر رہے نہ خاک میں میرا وہ دل ملائے بغیر

رہی اگرچہ نہ مجھ کو کبھی رلائے بغیر Read More »

پیش نظر نہیں ہے جو کچھ دن سے روئے دوست

غزل پیش نظر نہیں ہے جو کچھ دن سے روئے دوست بے چین کر رہی ہے بہت آرزوئے دوست آنکھوں سے دور ہو بھی گئے وہ تو کیا ہوا دل میں بسی ہوئی ہے تمنائے روئے دوست گلزار عاشقی کی فضا پر بہار ہے پھیلا ہوا ہے چار طرف رنگ و بوئے دوست کانوں میں

پیش نظر نہیں ہے جو کچھ دن سے روئے دوست Read More »