MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

تعلقات تو مفروضے زندگی کے ہیں

غزل تعلقات تو مفروضے زندگی کے ہیں یہاں نہ کوئی ہے اپنا نہ ہم کسی کے ہیں نہ عشق ہی کے اثر ہیں نہ دشمنی کے ہیں کہ سارے زخم مرے دل پہ دوستی کے ہیں چراغ اگرچہ نمائندے روشنی کے ہیں مگر یہ ہے کہ یہ آثار تیرگی کے ہیں تمہاری تیز روی دے […]

تعلقات تو مفروضے زندگی کے ہیں Read More »

کہو نہ یہ کہ محبت ہے تیرگی سے مجھے

غزل کہو نہ یہ کہ محبت ہے تیرگی سے مجھے ڈرا دیا ہے پتنگوں نے روشنی سے مجھے سفینہ شوق کا اب کے جو ڈوب کر ابھرا نکال لے گیا دریائے بے خودی سے مجھے ہے میری آنکھ میں اب تک وہی سفر کا غبار ملا جو راہ میں صحرائے آگہی سے مجھے خرد انہی

کہو نہ یہ کہ محبت ہے تیرگی سے مجھے Read More »

جب پاؤں ملا تھا تو رستے بھی نظر آتے

غزل جب پاؤں ملا تھا تو رستے بھی نظر آتے تم تک نہ سہی لیکن تا حد نظر جاتے تم آنکھ نہیں رکھتے اور دیکھتے ہو سب کچھ ہم آنکھ بھی رکھتے ہیں اور دیکھ نہیں پاتے ہر راہ تو منزل تک لے جاتی نہیں سب کو کچھ دیر ادھر چلتے کچھ دیر ادھر جاتے

جب پاؤں ملا تھا تو رستے بھی نظر آتے Read More »

کب تک نباہیں ایسے غلط آدمی سے ہم

غزل کب تک نباہیں ایسے غلط آدمی سے ہم دنیا ہے مظہریؔ سے خفا مظہریؔ سے ہم بھاگے ضرور عرصۂ تنگ خودی سے ہم نکلے مگر نہ دائرۂ آگہی سے ہم اس زندگی نے آپ سے رکھا ہے مجھ کو دور کس طرح انتقام نہ لیں زندگی سے ہم ہر جامہ صفات میں کیوں کر

کب تک نباہیں ایسے غلط آدمی سے ہم Read More »

یہاں جو بھی تھا تنہا تھا یہاں جو بھی ہے تنہا ہے

غزل یہاں جو بھی تھا تنہا تھا یہاں جو بھی ہے تنہا ہے یہ دنیا ہے یہ دنیا ہے اسی کا نام دنیا ہے نہ بولا ان سے جاتا ہے نہ دیکھا ان سے جاتا ہے یہاں گونگوں کی بستی ہے یہاں اندھوں کا پہرا ہے وہ منزل تھی تحیر کی یہ منزل ہے تفکر

یہاں جو بھی تھا تنہا تھا یہاں جو بھی ہے تنہا ہے Read More »

بخشش ہے تیری ہاتھ میں دنیا لیے ہوئے

غزل بخشش ہے تیری ہاتھ میں دنیا لیے ہوئے میں چپ کھڑا ہوں دیدۂ بینا لیے ہوئے صحرا کو کیا خبر کہ ہے ہر ذرۂ حقیر مٹھی میں اپنی قسمت صحرا لیے ہوئے اس شام سے ڈرو جو ستاروں کی چھاؤں میں آتی ہو اک حسین اندھیرا لیے ہوئے اے وقت اک نگاہ کہ کب

بخشش ہے تیری ہاتھ میں دنیا لیے ہوئے Read More »

صبح خود بتائے گی تیرگی کہاں جائے

غزل صبح خود بتائے گی تیرگی کہاں جائے یہ چراغ کی جھوٹی روشنی کہاں جائے جو نشیب آئے گا راستہ دکھائے گا موڑ خود بتائے گا آدمی کہاں جائے بڑھ کے دو قدم تو ہی اس کی پیٹھ ہلکی کر یہ تھکا مسافر اے رہزنی کہاں جائے ہاو ہو کی دنیا میں ماوتو کی دنیا

صبح خود بتائے گی تیرگی کہاں جائے Read More »

جس سمت نظر جائے میلا نظر آتا ہے

غزل جس سمت نظر جائے میلا نظر آتا ہے ہر آدمی اس پر بھی تنہا نظر آتا ہے سودائے دل و دیں یا سودائے دل و دنیا عاشق کو تو دونوں میں گھاٹا نظر آتا ہے اندھوں کو ترے اے حسن اب مل گئی بینائی اب عشق کا ہر جذبہ ننگا نظر آتا ہے پستی

جس سمت نظر جائے میلا نظر آتا ہے Read More »

ترا حسن بھی بہانہ مرا عشق بھی بہانہ

غزل ترا حسن بھی بہانہ مرا عشق بھی بہانہ یہ لطیف استعارے نہ سمجھ سکا زمانہ میں نثار دست نازک جو اٹھائے ناز شانہ کہ سنور گئیں یہ زلفیں تو سنور گیا زمانہ تری زندگی تبسم مری زندگی تلاطم مری زندگی حقیقت تری زندگی فسانہ تری زلف خم بہ خم نے نئے سلسلے نکالے مری

ترا حسن بھی بہانہ مرا عشق بھی بہانہ Read More »

ہمارا تو کوئی سہارا نہیں ہے

غزل ہمارا تو کوئی سہارا نہیں ہے خدا ہے تو لیکن ہمارا نہیں ہے محبت کی تلخی گوارا ہے لیکن حقیقت کی تلخی گوارا نہیں ہے مری زندگی وہ خلا ہے کہ جس میں کہیں دور تک کوئی تارا نہیں ہے خدا کیا خودی کو بھی آواز دی ہے مصیبت میں کس کو پکارا نہیں

ہمارا تو کوئی سہارا نہیں ہے Read More »