تعلقات تو مفروضے زندگی کے ہیں
غزل تعلقات تو مفروضے زندگی کے ہیں یہاں نہ کوئی ہے اپنا نہ ہم کسی کے ہیں نہ عشق ہی کے اثر ہیں نہ دشمنی کے ہیں کہ سارے زخم مرے دل پہ دوستی کے ہیں چراغ اگرچہ نمائندے روشنی کے ہیں مگر یہ ہے کہ یہ آثار تیرگی کے ہیں تمہاری تیز روی دے […]
تعلقات تو مفروضے زندگی کے ہیں Read More »