MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

قریہ قریہ خاک اڑائی کوچہ گرد فقیر ہوئے

قریہ قریہ خاک اڑائی کوچہ گرد فقیر ہوئے
پورب پچھم ڈھونڈا اس کو آخر گوشہ گیر ہوئے

کون ہیں یہ کیا ربط تھا ان سے کیا کہئے کچھ یاد نہیں
یہ چہرے کب دل میں اترے کس لمحے تصویر ہوئے

سو پیرائے ڈھونڈے پھر بھی آج کے دن تک عاجز ہیں
ہائے وہ بات جو کہہ بھی نہ پائے اور دفتر تحریر ہوئے

صدہا گہری سوچ میں ڈوبی صدیاں ہم پر صرف ہوئیں
اک دو برس کی بات نہیں ہم قرنوں میں تعمیر ہوئے

وہ شب وہ شبخون عدو کا کس اسلوب بیان کریں
گھائل کیسے پہروں تڑپے ہم کس طور اسیر ہوئے

کیا میں کیا تو آج بھی دونوں خاک ہیں کل بھی خاک بشیرؔ
جینا ان کا مرنا ان کا جو وجہ خیر کثیر ہوئے

بشیر احمد بشیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم