MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دور تک چاروں طرف میرے سوا کوئی نہ تھا

دور تک چاروں طرف میرے سوا کوئی نہ تھا
پھر پلک جھپکی تو کیا دیکھا کہ خود میں بھی نہ تھا

اک تڑپ بجلی کی اور دیوار و در مٹی کے ڈھیر
اک تڑپ شعلے کی اور دریاؤں میں پانی نہ تھا

دائرے بنتی صدائیں چھو کے جب حد افق
اپنے مرکز کی طرف لوٹیں تو کچھ باقی نہ تھا

قید زندان جسد میں تھا یہ کب کشف وجود
اور بھی کچھ تھا میں صرف اک پیکر خاکی نہ تھا

کیا خبر تم نے کہاں کس روپ میں دیکھا مجھے
میں کہیں موتی کہیں پتھر کہیں آئینہ تھا

دیں حساب روز و شب کیا اس کو جس کے درد سے
کوئی ساعت کوئی لمحہ کوئی پل خالی نہ تھا

آرزو لعل و گہر کی کس لئے کرتا بشیرؔ
حرف و معنی کا خزینہ کیا اسے کافی نہ تھا

بشیر احمد بشیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم