وقت گردش میں بہ انداز دگر ہے کہ جو تھا
وقت گردش میں بہ انداز دگر ہے کہ جو تھاتن میں جاں ہے کہ جو تھی دوش پہ سر ہے کہ جو تھا قافلے لٹتے گئے بجھتے گئے دل لیکنایک ہنگامہ سر راہ گزر ہے کہ جو تھا تیشۂ فکر وہی نشتر احساس وہیزخم سر ہے کہ جو تھا زخم جگر ہے کہ جو تھا […]
وقت گردش میں بہ انداز دگر ہے کہ جو تھا Read More »