MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

وقت گردش میں بہ انداز دگر ہے کہ جو تھا

وقت گردش میں بہ انداز دگر ہے کہ جو تھاتن میں جاں ہے کہ جو تھی دوش پہ سر ہے کہ جو تھا قافلے لٹتے گئے بجھتے گئے دل لیکنایک ہنگامہ سر راہ گزر ہے کہ جو تھا تیشۂ فکر وہی نشتر احساس وہیزخم سر ہے کہ جو تھا زخم جگر ہے کہ جو تھا […]

وقت گردش میں بہ انداز دگر ہے کہ جو تھا Read More »

وہ دل جو تھا کسی کے غم کا محرم ہو گیا رسوا

وہ دل جو تھا کسی کے غم کا محرم ہو گیا رسواجہان بیش و کم میں خواب آدم ہو گیا رسوا نہ چونکا نکہت آوارہ کی روداد پر کوئییہ کیوں افسانۂ‌ پرواز شبنم ہو گیا رسوا دکھائی اہل دل کو منزل دار و رسن جس نےتمہاری کج کلاہی کا وہ عالم ہو گیا رسوا امانت

وہ دل جو تھا کسی کے غم کا محرم ہو گیا رسوا Read More »

یگانگی میں بھی دکھ غیریت کے سہتا ہوں

یگانگی میں بھی دکھ غیریت کے سہتا ہوںچمن میں سبزۂ بیگانہ بن کے رہتا ہوں تری نگاہ محبت کا آسرا پا کرفسانۂ ستم روزگار کہتا ہوں عظیم دھاروں کا رخ پھیرنے کا عزم لیےحقیر موجوں پہ تنکے کی طرح بہتا ہوں ہے اپنے ظرف کا مقصود امتحاں شایدترے قریب پہنچ کر بھی دور رہتا ہوں

یگانگی میں بھی دکھ غیریت کے سہتا ہوں Read More »

کیسے ڈوبا ڈوب گیا

کیسے ڈوبا ڈوب گیاڈوبنے والا ڈوب گیا کیسی نیک کمائی تھی!پیسہ پیسہ ڈوب گیا ناؤ نہ ڈوبی دریا میںناؤ میں دریا ڈوب گیا لوگ کنارے آن لگےاور کنارہ ڈوب گیا بارش اس نے بھیجی تھیشہر ہمارا ڈوب گیا ساری رات بتا ڈالیتارہ تارہ ڈوب گیا گوہرؔ پورا خواب سناپانی میں کیا ڈوب گیا گوہر ہوشیار

کیسے ڈوبا ڈوب گیا Read More »

شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی

شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کیشرط ہی اور ہے شائستۂ فن ہونے کی میں کہ ہر دم مجھے بالیدگیٔ روح کی فکرروح کو فکر ہے وارستۂ تن ہونے کی رم بہ رم سلسلۂ موج غزالان خیالدشت غربت کو بشارت ہو وطن ہونے کی پرتو رنگ سے گلگوں ہوا معمورۂ چشمدھوم ہے کوئے تماشا کے

شاعری بات نہیں گرم سخن ہونے کی Read More »

بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا

بندوں کا مزاج ہم نے دیکھاکیا کچھ نہیں آج ہم نے دیکھا ہلتے ہوئے تخت کو سنبھالوگرتا ہوا تاج ہم نے دیکھا جیتے تو خوشی سے مر نہ جاتےکس شخص کا راج ہم نے دیکھا کیا کیا نہ ترس ترس گئے ہمکیا کیا نہ سماج ہم نے دیکھا روئے ہیں تو لوگ رو پڑے ہیںاب

بندوں کا مزاج ہم نے دیکھا Read More »

دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے

دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہےپانی کا بہاؤ کس طرف ہے یہ راہ کدھر کو مڑ رہی ہےلوگوں کا لگاؤ کس طرف ہے منزل کہاں تاکتے ہیں راہیتکتے ہیں پڑاؤ کس طرف ہے تاثیر کہاں گئی سخن سےجذبوں کا الاؤ کس طرف ہے آواز کہیں بلا رہی ہےیاروں کا رجھاؤ کس طرف ہے تصویر

دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے Read More »

دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہے

دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہےزنجیر بھی آوازۂ زنجیر بھی چاہے آرام کی صورت نظر آئے تو کچھ انساںنیرنگ شب و روز میں تغییر بھی چاہے سودائے طلب کو نہ توکل کے عوض دےیہ شرط تو خود خالق تقدیر بھی چاہے لازم ہے محبت ہی محبت کا بدل ہوتصویر جو دیکھے اسے تصویر بھی

دل سلسلۂ شوق کی تشہیر بھی چاہے Read More »

دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون

دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کوناب یہ آنکھ ہی جانے دوستوں میں دشمن کون یا جگر میں خوں کم تھا یا ابھی جنوں کم تھادشت کے عوض کرتا ورنہ قصد گلشن کون اک نشاط آرائی اک سکون تنہائیہجر یا وصال اچھا حل کرے یہ الجھن کون سلسلے محبت کے نام سے نہیں چلتےاپنی ذات

دل تمام آئینے تیرہ کون روشن کون Read More »

دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے

دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھےیہ اور بات کہ ہم مسکرا بھی لیتے تھے وہ ایک شخص برائی پہ تل گیا تو چلوسوال یہ ہے کہ ہم بھی کہاں فرشتے تھے اور اب نہ آنکھ نہ آنسو نہ دھڑکنیں دل میںتمہی کہو کہ یہ دریا کبھی اترتے تھے جدائیوں کی گھڑی نقش نقش

دکھی دلوں میں، دکھی ساتھیوں میں رہتے تھے Read More »