MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وقت گردش میں بہ انداز دگر ہے کہ جو تھا

وقت گردش میں بہ انداز دگر ہے کہ جو تھا
تن میں جاں ہے کہ جو تھی دوش پہ سر ہے کہ جو تھا

قافلے لٹتے گئے بجھتے گئے دل لیکن
ایک ہنگامہ سر راہ گزر ہے کہ جو تھا

تیشۂ فکر وہی نشتر احساس وہی
زخم سر ہے کہ جو تھا زخم جگر ہے کہ جو تھا

ساتھ قدموں کے لگا چلتا ہے اپنا سایہ
وہی ہم ہیں وہی صحرائے سفر ہے کہ جو تھا

آدمی اپنے خیالوں کا سلگتا پیکر
خود نگر ہے کہ جو تھا خاک بسر ہے کہ جو تھا

آنکھ والوں نے تو ہر موڑ پہ بدلے انداز
ایک اپنا وہی انداز نظر ہے کہ جو تھا

آگ جنگل کی بجھائے یہ پڑی ہے کس کو
وسعت جاں میں وہی رقص شرر ہے کہ جو تھا

عقل یہ تیری ہی پونجی ہے سمجھ یا نہ سمجھ
دل اک اجڑا ہوا جلتا ہوا گھر ہے کہ جو تھا

پوچھنے آئے ہیں بچھڑے ہوئے لمحے حرمتؔ
کیا وہی سلسلۂ شام و سحر ہے کہ جو تھا

حرمت الاکرام

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم