MOJ E SUKHAN

دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے

دریا میں یہ ناؤ کس طرف ہے
پانی کا بہاؤ کس طرف ہے

یہ راہ کدھر کو مڑ رہی ہے
لوگوں کا لگاؤ کس طرف ہے

منزل کہاں تاکتے ہیں راہی
تکتے ہیں پڑاؤ کس طرف ہے

تاثیر کہاں گئی سخن سے
جذبوں کا الاؤ کس طرف ہے

آواز کہیں بلا رہی ہے
یاروں کا رجھاؤ کس طرف ہے

تصویر دکھا رہی ہے کیا کچھ
رنگوں کا رچاؤ کس طرف ہے

کھوئے ہوئے تم کہاں ہو گوہرؔ
دل کا یہ کھچاؤ کس طرف ہے

گوہر ہوشیار پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم