MOJ E SUKHAN

کب ایک رنگ میں دنیا کا حال ٹھہرا ہے

کب ایک رنگ میں دنیا کا حال ٹھہرا ہے
خوشی رکی ہے نہ کوئی ملال ٹھہرا ہے

تڑپ رہے ہیں پڑے روز و شب میں الجھے لوگ
نفس نفس کوئی پیچیدہ جال ٹھہرا ہے

خود اپنی فکر اگاتی ہے وہم کے کانٹے
الجھ الجھ کے مرا ہر سوال ٹھہرا ہے

بس اک کھنڈر مرے اندر جئے ہی جاتا ہے
عجیب حال ہے ماضی میں حال ٹھہرا ہے

کبھی نہیں تھا نہ اب ہے خیال سود و زیاں
وہی تو ہوگا جو اپنا مآل ٹھہرا ہے

اس ایک بات کو گزرے زمانہ بیت گیا
مگر دلوں میں ابھی تک ملال ٹھہرا ہے

جنوں کے سائے میں اب گھر بنا لیا دل نے
چلو کہیں تو وہ آوارہ حال ٹھہرا ہے

بڑے کمال کا نکلا وہ آدمی بلقیسؔ
کہ بے ہنر ہے مگر باکمال ٹھہرا ہے

بلقیس ظفیر الحسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم