MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کر

ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کربہار آ تو گئی رنگ و بو کی بات نہ کر عجیب بھول بھلیاں ہے شاہراہ حیاتبھٹکنے والے یہاں جستجو کی بات نہ کر تباہ کر نہ مذاق جنوں کی خودداریدل تباہ کسی تند خو کی بات نہ کر خود اپنے طرز عمل کو سنوار اور سنوارمرے […]

ندیم باغ میں جوش نمو کی بات نہ کر Read More »

نظر سے صفحۂ عالم پہ خونیں داستاں لکھیے

نظر سے صفحۂ عالم پہ خونیں داستاں لکھیےقلم سے کیا حکایات زمین و آسماں لکھیے مٹا دے جو فضا کی تیرگی ماحول کی پستیکوئی ایسا بھی شعر اے شاعران خوش بیاں لکھیے بپا ہیں ہر جہت میں آتش و آہن کے ہنگامےکہاں اس دور میں جور و جفائے مہوشاں لکھیے خطر ہائے رہ مجنوں کا

نظر سے صفحۂ عالم پہ خونیں داستاں لکھیے Read More »

رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیں

رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیںکون ہے اپنے ہوش میں ظالم کس کا گریباں چاک نہیں جب تھا زمانہ دیوانوں کا اب فرزانے آئے ہیںجب صحرا میں لالہ و گل تھے اب گلشن میں خاک نہیں فتنوں کی ارزانی سے اب ایک اک تار آلودہ ہےہم دیکھیں کس کس کے

رہنے دے یہ طنز کے نشتر اہل جنوں بے باک نہیں Read More »

یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھا

یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھااب وہ چکناچور پڑا ہے جس شیشے میں بال نہ تھا انساں آ کر نئی ڈگر پر کھو بیٹھا ہے ہوش و حواسپہلے بھی بے ہوش تھا لیکن ایسا بھی بد حال نہ تھا گلشن گلشن ویرانی ہے جنگل جنگل سناٹاہائے وہ دن جب

یاروں کے اخلاص سے پہلے دل کا مرے یہ حال نہ تھا Read More »

یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلے

یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلےنظر کچھ اور تھی موج شراب سے پہلے نہ جانے حال ہو کیا دور اضطراب کے بعدسکوں ملا نہ کبھی اضطراب سے پہلے وہی غریب ہیں خانہ خراب سے اب بھیرواں دواں تھے جو خانہ خراب سے پہلے وہی ہے حشر کا عالم اب انقلاب کے بعدجو

یہ رنگ و کیف کہاں تھا شباب سے پہلے Read More »

زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہا

زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہامگر نگاہ نے اس انجمن میں کیا نہ کہا محیط شوق میں ہم ڈوبتے ابھرتے رہےخدا گواہ کبھی جور نا خدا نہ کہا صنم کدہ ہے کہ اک محفل خدا ونداںبہت خفا ہوا وہ بت جسے خدا نہ کہا ہزار خضر نما لوگ راستوں میں ملےہمارے دل نے

زبان بند رہی دل کا مدعا نہ کہا Read More »

ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک

ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تکمجھ کو حیرت رہی انجمن میں تری کیوں ہیں خاموش اہل زباں آج تک عشق محو غم زندگی ہو گیا حسن مدہوش عشوہ طرازی رہااہل دل ہوش میں آ چکے ہیں مگر ہے وہی عالم دلبراں آج تک ایسے گزرے ہیں اہل

ظلم سہتے رہے شکر کرتے رہے آئی لب تک نہ یہ داستاں آج تک Read More »

نصیحت اسماعیل میرٹھی کی بچوں کے لیے نظم

کرے دشمنی کوئی تم سے اگرجہاں تک بنے تم کرو درگزر کرو تم نہ حاسد کی باتوں پہ غورجلے جو کوئی اس کو جلنے دو اور اگر تم سے ہو جائے سرزد قصورتو اقرار و توبہ کرو بالضرور بدی کی ہو جس نے تمہارے خلافجو چاہے معافی تو کر دو معاف نہیں، بلکہ تم اور

نصیحت اسماعیل میرٹھی کی بچوں کے لیے نظم Read More »

رات اب آنکھوں میں کٹنے لگ گئی

Raat abh aankhoo main katnay lag gayee غزل رات اب آنکھوں میں کٹنے لگ گئیذات بھی خانوں میں بٹنے لگ گئی مخملی یادوں نے جب دل کو چھوادرد کی پھر دھند چھٹنے لگ گئی راس آئی جب محبت زیست تباس کی بانہوں میں سمٹنے لگ گئی اک سحر چھایا ہے ہر اک شام اباس کی

رات اب آنکھوں میں کٹنے لگ گئی Read More »

دریچے سو گئے شب جاگتی ہے

دریچے سو گئے شب جاگتی ہےمیرے کمرے میں کیسی خامشی ہے جدھر دیکھو فسردہ زندگی ہےمجھے لگتا ہے یہ غم کی صدی ہے جو رستوں میں بھٹکتی پھر رہی ہےاسے پہچان فکر زندگی ہے سمندر کا تموج ابر و باراںزمیں کے دل میں پھر بھی تشنگی ہے ہر اک لمحہ ہمارا خون تازہمحبت جونک بن

دریچے سو گئے شب جاگتی ہے Read More »