MOJ E SUKHAN

سوائے دربدری اس کو خاک ملتا ہے

سوائے دربدری اس کو خاک ملتا ہے
جو آسمان سے اپنی زمیں بدلتا ہے

میں جب بھی گھر سے نکلتا ہوں رات کو تنہا
چراغ لے کے کوئی ساتھ ساتھ چلتا ہے

عجیب ہوتا ہے نظارگان شوق کا حال
ردائے ماہ پہن کر وہ جب نکلتا ہے

بروئے چشم ردائے حجاب تان لی جائے
وہ زیر سایۂ گل پیرہن بدلتا ہے

فریب قرب تو دیکھو کہ میرے پہلو میں
تمام رات کوئی کروٹیں بدلتا ہے

گزار دیتے ہیں آوارہ گرد آگ کے گرد
جو بے ٹھکانہ ہیں ان کا بھی کام چلتا ہے

ہمارے دم سے بھی ہے موسموں کی گلکاری
چراغ لالہ میں دل کا لہو بھی جلتا ہے

میں وہ شہید وفا ہوں کہ قتل کر کے مجھے
مرا غنیم تأسف سے ہاتھ ملتا ہے

ہمیں نصیب ہوا ایسی منزلوں کا سفر
قدم قدم پہ جہاں راستہ بدلتا ہے

ہوائے دامن رنگیں یہ کہہ گئی تشنہؔ
ہمارے سامنے کس کا چراغ جلتا ہے

عالم تاب تشنہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم