MOJ E SUKHAN

سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو

سہارا دے نہیں سکتے شکستہ پاؤں کو
ہٹاؤ راہ محبت سے رہنماؤں کو

بنا رہا ہوں حسیں اور مہ لقاؤں کو
سجا رہا ہوں میں آفاق کی فضاؤں کو

نظر نظر سے ملاتا ہوں مسکراتا ہوں
جنوں کی شان دکھاتا ہوں دل رباؤں کو

قدم قدم پہ نئے انقلاب رقصاں ہیں
دعائیں دیتے ہیں ہم آپ کی اداؤں کو

ملا جو دامن ساحل تو ایسی موج آئی
سفینے سونپ دئیے ہم نے ناخداؤں کو

نگاہ پھیرنے والوں سے پوچھتا ہوں میں
تم آزماؤ گے کب تک مری وفاؤں کو

ابھی تو دشت و دمن میں بہار آئی ہے
ابھی چمن میں کھلانے ہیں گل ہواؤں کو

چلے ہیں جانب دار و رسن خراباتی
گنہ کا رنگ دکھانا ہے پارساؤں کو

ہر ایک لمحۂ نو کا اب احترام کرو
نیا پیام دو اخترؔ نئی فضاؤں کو

اختر انصاری اکبر آبادی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم