MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

دل کی بات نہ مانی ہوتی عشق کیا کیوں پیری میں

دل کی بات نہ مانی ہوتی عشق کیا کیوں پیری میںاپنی مرضی بھی شامل ہے اپنی بے توقیری میں درد اٹھا تو ریزہ دل کا گوشۂ لب پر آن جماخوش ہیں کوئی نقش تو ابھرا بارے بے تصویری میں قید میں گل جو یاد آیا تو پھول سا دامن چاک کیااور لہو پھر روئے گویا […]

دل کی بات نہ مانی ہوتی عشق کیا کیوں پیری میں Read More »

اک تیر نہیں کیا تری مژگاں کی صفوں میں

اک تیر نہیں کیا تری مژگاں کی صفوں میںبہہ جائیں لہو بن کے یہ حسرت ہے دلوں میں دریا ہو تو موجوں میں کھلے اس کا سراپاپاگل ہے ہوا چیختی پھرتی ہے بنوں میں تیشے کی صدا میری ہی فریاد تھی گویامیری ہی طرح تھا کوئی پتھر کی سلوں میں یوں آج پھر اک حسرت

اک تیر نہیں کیا تری مژگاں کی صفوں میں Read More »

گرد آلود دریدہ چہرہ یوں ہے ماہ و سال کے بعد

گرد آلود دریدہ چہرہ یوں ہے ماہ و سال کے بعدجیسے فلک بارش سے پہلے جیسے زمیں بھونچال کے بعد مردہ لوگوں کی بستی میں سنتا ہوں آوازیں سیجیسے مقتل کا سناٹا بولے عام قتال کے بعد ہجر تو پہلے بھی آیا تھا لیکن اب وحشت ہے اورچلتی ہوا سے لڑتے ہیں ہم ایک پری

گرد آلود دریدہ چہرہ یوں ہے ماہ و سال کے بعد Read More »

کاش اک شب کے لیے خود کو میسر ہو جائیں

کاش اک شب کے لیے خود کو میسر ہو جائیںفرش شبنم سے اٹھیں اور گل تر ہو جائیں دیکھنے والی اگر آنکھ کو پہچان سکیںرنگ خود پردۂ تصویر سے باہر ہو جائیں تشنگی جسم کے صحرا میں رواں رہتی ہےخود میں یہ موج سمو لیں تو سمندر ہو جائیں وہ بھی دن آئیں یہ بے

کاش اک شب کے لیے خود کو میسر ہو جائیں Read More »

کتنے ہی تیر خم دست و کماں میں ہوں گے

کتنے ہی تیر خم دست و کماں میں ہوں گےجن کے سوفار ابھی سے مری جاں میں ہوں گے دل ہے اب خانۂ آسیب زدہ کی صورتزخم روزن اسی تاریک مکاں میں ہوں گے ایک ہم ہی نہیں سر میں لیے سودائے وفااور بھی کتنے محبت کے گماں میں ہوں گے صرف تیرے لب و

کتنے ہی تیر خم دست و کماں میں ہوں گے Read More »

کیا بتاؤں کہ ہے کس زلف کا سودا مجھ کو

کیا بتاؤں کہ ہے کس زلف کا سودا مجھ کودود ہر شمع گریباں نظر آیا مجھ کو چاند جو ابھرا شب غم مرے دل میں ڈوبابھیگتی رات نے کچھ اور جلایا مجھ کو ہائے کیا کیا مجھے بیتاب رکھا ہے اس نےیاد کرنے پہ بھی جو یاد نہ آیا مجھ کو اب تو سانسوں کے

کیا بتاؤں کہ ہے کس زلف کا سودا مجھ کو Read More »

مرتے مرتے روشنی کا خواب تو پورا ہوا

مرتے مرتے روشنی کا خواب تو پورا ہوابہہ گیا سارا لہو تن کا تو دن آدھا ہوا راستوں پر پیڑ جب دیکھے تو آنسو آ گئےہر شجر سایہ تھا تیری یاد سے ملتا ہوا صبح سے پہلے بدن کی دھوپ میں نیند آ گئیاور کتنا جاگتا میں رات کا جاگا ہوا شہر دل میں اس

مرتے مرتے روشنی کا خواب تو پورا ہوا Read More »

میری صورت سایۂ دیوار و در میں کون ہے

میری صورت سایۂ دیوار و در میں کون ہےاے جنوں میرے سوا یہ میرے گھر میں کون ہے ٹھیک ہے اے ضبط غم! آنسو کوئی ٹپکا نہیںپر یہ دل سے آنکھ تک پیہم سفر میں کون ہے وہ تو کب کا اپنی منزل پر پہنچ کر سو چکاچاند کیا جانے کہ راہ پر خطر میں

میری صورت سایۂ دیوار و در میں کون ہے Read More »

تھا پس مژگان‌ تر اک حشر برپا اور بھی

تھا پس مژگان‌ تر اک حشر برپا اور بھیمیں اگر یہ جانتا شاید تو روتا اور بھی پاؤں کی زنجیر گرداب بلا ہوتی اگرڈوبتے تو سطح پر اک نقش بنتا اور بھی آندھیوں نے کر دیئے سارے شجر بے برگ و بارورنہ جب پتے کھڑکتے دل لرزتا اور بھی روزن در سے ہوا کی سسکیاں

تھا پس مژگان‌ تر اک حشر برپا اور بھی Read More »

تم اچھے تھے تم کو رسوا ہم نے کیا

تم اچھے تھے تم کو رسوا ہم نے کیاپھر کہنا، کیا تم نے کہا، کیا ہم نے کیا آنسو سارے پلکوں ہی میں جذب ہوئےدریا کو تصویر دریا ہم نے کیا اے میرے دل تنہا دل چپ چپ رہناپہلے بھی تو شور کیا، کیا ہم نے کیا نقش گرو! کب ہم نے منظر بدلا ہےچاندی

تم اچھے تھے تم کو رسوا ہم نے کیا Read More »