MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

جشن برباد خیالوں کا منا لوں تو چلوں

جشن برباد خیالوں کا منا لوں تو چلوںمژۂ شوق کو غم ساز بنا لوں تو چلوں میری ہستی میں سمٹ آئے اندھیرے غم کےشمع الفت کی ترے غم میں جلا لوں تو چلوں دل بے تاب ٹھہر اشک تمنا کے طفیلبزم فرقت کو سر شام سجا لوں تو چلوں کیف طاری ہے بہت آج تصور […]

جشن برباد خیالوں کا منا لوں تو چلوں Read More »

کیفیت ہی کیفیت میں ہم کہاں تک آ گئے

کیفیت ہی کیفیت میں ہم کہاں تک آ گئےبے خودی وہ تھی کہ ان کے آستاں تک آ گئے وقت کی رو میں بہے تھے جانے کس انداز میںیہ خبر بھی ہو نہ پائی ہم کہاں تک آ گئے خود سکون آگہی نے روح کو تسکین دیہم بچھڑ کر جب غبار کارواں تک آ گئے

کیفیت ہی کیفیت میں ہم کہاں تک آ گئے Read More »

تمہارے آنے کا جب جب بھی اہتمام کیا

تمہارے آنے کا جب جب بھی اہتمام کیاتو حسرتوں نے ادب سے مجھے سلام کیا کہاں کہاں نہ نظر نے تمہاری کام کیااتر کے دل میں امیدوں کا قتل عام کیا غموں کے دور میں ہنس کر جو پی گئے آنسوتو آنے والی مسرت نے احترام کیا یہ کس نے چن کے مسرت کے پھول

تمہارے آنے کا جب جب بھی اہتمام کیا Read More »

ان کی دیرینہ ملاقات جو یاد آتی ہے

ان کی دیرینہ ملاقات جو یاد آتی ہےچشم تر صورت پیمانہ چھلک جاتی ہے دل میں آتے ہی سر شام تصور تیرارات ساری مری آنکھوں میں گزر جاتی ہے یہ جنوں ہے کہ محبت کی علامت کوئیتیری صورت مجھے ہر شے میں نظر آتی ہے ساقیا جس پہ نوازش ہو کرم ہو تیرااس کے ہر

ان کی دیرینہ ملاقات جو یاد آتی ہے Read More »

زندگی کی ہر نفس میں بے کلی تیرے بغیر

زندگی کی ہر نفس میں بے کلی تیرے بغیرہر خوشی لگتی ہے دل کو اجنبی تیرے بغیر فصل گل نے لاکھ پیدا کی فضائے پر بہارغنچۂ دل پر نہ آئی تازگی تیرے بغیر تشنہ کامی کو مری سیراب کرنے کے لئےاٹھتے اٹھتے وہ نظر بھی رہ گئی تیرے بغیر کوئی جلوہ کوئی منظر مجھ کو

زندگی کی ہر نفس میں بے کلی تیرے بغیر Read More »

رہِ طلب کے جو آداب بھول جاتے ہیں

رہِ طلب کے جو آداب بھول جاتے ہیںوہ گمرہی کے بھی اسباب بھول جاتے ہیں کمند چاند ستاروں پہ ڈالنے والےچراغِ منبر و محراب بھول جاتے ہیں جو آ کے ڈوب گئے شہر کے سمندر میںوہ اپنے گاؤں کے تالاب بھول جاتے ہیں تری قبا کے دھنک رنگ دیکھنے والےردائے انجم و ماہتاب بھول جاتے

رہِ طلب کے جو آداب بھول جاتے ہیں Read More »

مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ​

مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ​جبیں افسردہ افسردہ ، قدم لغزیدہ لغزیدہ​ ​چلا ہوں ایک مجرم کی طرح میں جانب طیبہ​نظر شرمندہ شرمندہ بدن لرزیدہ لرزیدہ​ ​کسی کےہاتھ نےمجھ کو سہارا دے دیا ورنہ​کہاں میں اور کہاں یہ راستے پیچیدہ پیچیدہ​ ​غلامان محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) دور سے پہچانےجاتےہیں​دل

مدینےکا سفر ہے اور میں نم دیدہ نم دیدہ​ Read More »

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​میں محفل حرم کے آداب جانتا ہوں​ ​جو ہیں خدا کے پیارے میں ان کو چاہتا ہوں​اُن کو اگر نہ چاہوں تو اور کس کو چاہوں​ ​ایسا کوئی مسافر شاید کہیں نہ ہوگا​دیکھےبغیر اپنی منزل سے آشنا ہوں​ ​کوئی تو آنکھ والا گزرےگا اس طرف سے​طیبہ کےراستےمیں

میں لب کشا نہیں ہوں اور محو التجا ہوں​ Read More »

نعت میں کیسےکہوں ان (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کی رضا سےپہلے

نعت میں کیسےکہوں ان (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کی رضا سےپہلےمیرےماتھے پہ پسینہ ہے ثنا سے پہلے نور کا نام نہ تھا عالمِ امکاں میں کہیںجلوئہ صاحب لو لاک لما سے پہلے اُن (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کا در وہ درِ دولت ہے جہاں شام و سحربھیک ملتی ہے فقیروں کو

نعت میں کیسےکہوں ان (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم) کی رضا سےپہلے Read More »

آخر خود اپنے ہی لہو میں ڈوب کے صرف وغا ہو گے

آخر خود اپنے ہی لہو میں ڈوب کے صرف وغا ہو گےقدم قدم پر جنگ لڑی ہے کہاں کہاں برپا ہو گے حال کا لمحہ پتھر ٹھہرا یوں بھی کہاں گزرتا ہےہاتھ ملا کر جانے والو دل سے کہاں جدا ہو گے موجوں پر لہراتے تنکو چلو نہ یوں اترا کے چلواور ذرا یہ دریا

آخر خود اپنے ہی لہو میں ڈوب کے صرف وغا ہو گے Read More »