MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عالمی شہرت کے حامل ساجد رضوی

عالمی شہرت کے حامل ساجد رضوی   ،، پاکستان کے بیشتر علاقوں میں چراغ سخن اگر آج روشن ہے تو اس. میں ساجد رضوی کی ادبی خدمات بالخصوص انتھک کاؤشوں کو فراموش نہیں کیاجاسکتا، عالمی شہرت یافتہ، مکتب داغ،کی کہکشاں کے منور ستارے و درویشانہ صفت کے حامل ناظم، منتظم،صاحب اسلوب شاعر نے 1945 میں […]

عالمی شہرت کے حامل ساجد رضوی Read More »

ماہر اجمیری عہد حاضر کے قادرالکلام شاعر

ماہر اجمیری عہد حاضر کے قادرالکلام شاعر   پھلوں کے شہنشاہ میٹھے آموں سے شہرت رکھنے والا سندھ کا چوتھا بڑا شہر میرپورخاص جو ہمیشہ سے علم و ادب کا گہوارہ رہا ہے، اور اس کی زرخیز مٹی نے گلشن ادب کو معیاری شاعر، ادیب،لکھاری دیئے۔ اسی شہر میں میں سکونت اختیار کرنے والے استاذ

ماہر اجمیری عہد حاضر کے قادرالکلام شاعر Read More »

عہد ساز شخصیت ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی 

عہد ساز شخصیت ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی   سرمئی شاموں ،ٹھنڈی راتوں اور ہوادوانوں کے شہر حیدرآباد نے ہر شعبہ میں مختلف مکتبہ فکر کے افراد دنیا میں اپنی اپنی قابلیت کا اعتراف کرا چکے یا کرا رہے ہیں انہی شخصیات میں شاعر، ادیب،محقق دانشور، پروفیسر، ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی کا شمار کیا جاتا ہے

عہد ساز شخصیت ڈاکٹر عتیق احمد جیلانی  Read More »

ترے دریدہ گریباں میں یہ رفو کیا ہے

غزل ترے دریدہ گریباں میں یہ رفو کیا ہے تجھے خبر نہیں مجنوں کی آبرو کیا ہے مجھے تو آپ کی آنکھوں نے کر دیا سرشار مجھے خبر ہی نہیں جام کیا سبو کیا ہے نہ جانے ہوگا بھی دونوں میں اتفاق کبھی مزاج حسن ہے کیا میری آرزو کیا ہے مجاز ہے کہ حقیقت

ترے دریدہ گریباں میں یہ رفو کیا ہے Read More »

وفا کی راہ میں گل ہی نہیں ہے خار بھی ہے

غزل وفا کی راہ میں گل ہی نہیں ہے خار بھی ہے یہ جرم وہ ہے کہ پاداش اس کی دار بھی ہے سنبھل کے آ مرے ہمدم کہ راہ عشق و وفا مقام سجدہ بھی میدان کارزار بھی ہے مرے خدا تری رحمت کی آس رکھتا ہے ترا یہ بندہ کہ خاطی بھی شرمسار

وفا کی راہ میں گل ہی نہیں ہے خار بھی ہے Read More »

مری آرزو کی حدود میں یہ فلک نہیں یہ زمیں نہیں

غزل مری آرزو کی حدود میں یہ فلک نہیں یہ زمیں نہیں مجھے بزم قدس میں دے جگہ جو وہاں نہیں تو کہیں نہیں ہے جبیں تو اصل میں وہ جبیں کہ جھکے وہاں تو جھکی رہے ترے آستاں سے جو اٹھ گئی وہ جبیں تو کوئی جبیں نہیں مرے دل کی نذر قبول کر

مری آرزو کی حدود میں یہ فلک نہیں یہ زمیں نہیں Read More »

ہو جاتے ہیں جب اپنے مریضوں سے خفا اور

غزل ہو جاتے ہیں جب اپنے مریضوں سے خفا اور کرتے ہیں وہ ایجاد ستم اور جفا اور اے ظلم سراپا کبھی اس پر بھی نظر کر کیا میرا خدا اور ہے تیرا ہے خدا اور مشکل ہے بتانا کہ ہے کیا فرق مگر ہے لیلیٰ کی ادا اور ہے مجنوں کی ادا اور تسلیم

ہو جاتے ہیں جب اپنے مریضوں سے خفا اور Read More »

بھری بزم میں گل فشاں اور بھی ہیں

غزل بھری بزم میں گل فشاں اور بھی ہیں ہمارے سوا نکتہ داں اور بھی ہیں یہ دنیا تو مٹ جانے والی ہے لیکن زمیں اور بھی آسماں اور بھی ہیں یہ دنیا تو اک ذرۂ مختصر ہے مکیں اور بھی ہیں مکاں اور بھی ہیں نہ تنہا مرا کارواں راہ میں ہے رہ عشق

بھری بزم میں گل فشاں اور بھی ہیں Read More »

اس سینے کی وقعت ہی کیا ہے جس سینے میں تیرا نور نہیں

غزل اس سینے کی وقعت ہی کیا ہے جس سینے میں تیرا نور نہیں اس کاسۂ سر کی کیا قیمت جو سنگ جنوں سے چور نہیں اس دل کو کوئی کیوں دل مانے جو جذب و جنوں سے خالی ہو اس شمع کو ہم کیوں شمع کہیں جو پرتو شمع طور نہیں یہ کیف و

اس سینے کی وقعت ہی کیا ہے جس سینے میں تیرا نور نہیں Read More »

میں بتاؤں عشق کیا ہے ایک پیہم اضطراب

غزل میں بتاؤں عشق کیا ہے ایک پیہم اضطراب دھیمی دھیمی آنچ کہیے یا مسلسل التہاب رات وہ آئے تھے چہرے سے نقاب الٹے ہوئے میں تو حیراں تھا نکل آیا کدھر سے آفتاب دل پہ ان کے روئے روشن کا پڑا ہے جب سے عکس دل نہیں ہے بلکہ سینے میں ہے روشن ماہتاب

میں بتاؤں عشق کیا ہے ایک پیہم اضطراب Read More »