MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

بنی ہوئی ہیں مرے دل کی ترجماں آنکھیں

غزل بنی ہوئی ہیں مرے دل کی ترجماں آنکھیں سنا رہی ہیں محبت کی داستاں آنکھیں نہ تھی زباں کو اجازت کہ حال دل کہتی زبان اشک سے کرتی رہیں بیاں آنکھیں کبھی چھپی ہے محبت کہ میں چھپا لیتا زباں جو بند ہوئی بن گئیں زباں آنکھیں بناؤ دامن سادہ پہ ان سے گل […]

بنی ہوئی ہیں مرے دل کی ترجماں آنکھیں Read More »

یہ ہے کون سی حکایت یہ ہے کون سا ترانہ

غزل یہ ہے کون سی حکایت یہ ہے کون سا ترانہ نہ شکایت غم دل نہ حکایت زمانہ وہ اثر بھری نصیحت وہ کلام عارفانہ کہ لگا رہا ہو جیسے کوئی دل پہ تازیانہ جسے کافری سے رغبت جسے ذوق ملحدانہ اسے کیوں پسند آئے رہ و رسم مومنانہ ہے ستم کی دھند چھائی ہے

یہ ہے کون سی حکایت یہ ہے کون سا ترانہ Read More »

شہیدوں کا ترے شہرہ زمیں سے آسماں تک ہے

غزل شہیدوں کا ترے شہرہ زمیں سے آسماں تک ہے فلک سے بلکہ آگے بڑھ کے تیرے آستاں تک ہے جمال جاں فزا کا ان کے دل کش دل ربا جلوہ زمیں سے آسماں تک ہے مکاں سے لا مکاں تک ہے رہیں سب مطمئن گلشن میں اپنے آشیانوں سے کہ جولاں گاہ بجلی کی

شہیدوں کا ترے شہرہ زمیں سے آسماں تک ہے Read More »

یہ عشق کی ہے راہ نہ یوں ڈگمگا کے چل

غزل یہ عشق کی ہے راہ نہ یوں ڈگمگا کے چل ہمت کو اپنی تول قدم کو جما کے چل راہ وفا ہے اس میں نہ یوں منہ بنا کے چل کانٹوں کو روند روند کے تو مسکرا کے چل شمع یقیں کی لو کو ذرا اور تیز کر ظلمت میں رہروؤں کو بھی رستہ

یہ عشق کی ہے راہ نہ یوں ڈگمگا کے چل Read More »

وفا کر رہا ہوں جفا چاہتا ہوں

غزل وفا کر رہا ہوں جفا چاہتا ہوں خطا کر رہا ہوں سزا چاہتا ہوں محبت کا یہ بھی کوئی مرحلہ ہے کہ میں نالۂ نارسا چاہتا ہوں نگاہوں کی عفت دلوں کی طہارت میں سر سے قدم تک حیا چاہتا ہوں تردد توہم کی ظلمت مٹا کر میں علم و یقیں کی ضیا چاہتا

وفا کر رہا ہوں جفا چاہتا ہوں Read More »

آ گیا وقت کہ ہو دعوت عام اے ساقی

غزل آ گیا وقت کہ ہو دعوت عام اے ساقی بھیج دے چاروں طرف اپنا پیام اے ساقی کھینچ لائے گا ہزاروں کو ترے پاس یہاں یہ ترا حسن نظر حسن کلام اے ساقی گھر لٹانے کی نہیں گھر کو بچانے کی ہے فکر کس قدر عشق ہے میرا ابھی خام اے ساقی کاسۂ دل

آ گیا وقت کہ ہو دعوت عام اے ساقی Read More »

آپ کیا جانیں محبت کا تماشا کیا ہے

غزل آپ کیا جانیں محبت کا تماشا کیا ہے شعلۂ عشق کسے کہتے ہیں سودا کیا ہے کوئی خوش ہے کوئی نا خوش کوئی شاکی تجھ سے کون جانے کہ تری بزم کا قصہ کیا ہے ساغر مہر و وفا دور میں تھا صبح و مسا جانے اب مجلس احباب کا نقشہ کیا ہے علم

آپ کیا جانیں محبت کا تماشا کیا ہے Read More »

جس جگہ بھی ملا گھنا سایا

غزل جس جگہ بھی ملا گھنا سایا ہم نے کچھ دیر کو سکوں پایا ہم نوید سحر میں غلطاں تھے ظلمت شب نے آ کے چونکایا ہم مقدر ہیں دھوپ کا یارو ہم پہ ہنستا ہے کس لیے سایا ہو چلے تھے دیار غیر کے ہم تیری یادوں نے دام پھیلایا ہم گھنی چھاؤں سے

جس جگہ بھی ملا گھنا سایا Read More »

اگر کچھ موڑ رستے میں نہ آتے

غزل اگر کچھ موڑ رستے میں نہ آتے تو ممکن تھا تجھے ہم بھول جاتے متاع ہوش کی بازی لگا کر بساط عشق پہ ہم ہار جاتے کہاں ماضی کہاں امروز و فردا کہاں سے داستاں اپنی سناتے غرور ضبط سے پہلو بچا کر تمہیں کو دوستو ہم آزماتے اگر ہوتا نہ کچھ خود پر

اگر کچھ موڑ رستے میں نہ آتے Read More »

ہم نے گھٹتا بڑھتا سایا پگ پگ چل کر دیکھا ہے

غزل ہم نے گھٹتا بڑھتا سایا پگ پگ چل کر دیکھا ہے ہر راہی اک دھندلا پن ہے ہر جادہ اک دھوکا ہے ہم بھی کسی لمحے کی انگلی تھام کے اک دن چل دیں گے تو نے تو اے جانے والے جانے کو کیا جانا ہے ماضی کی بے نام گپھا میں بیٹھے بیٹھے

ہم نے گھٹتا بڑھتا سایا پگ پگ چل کر دیکھا ہے Read More »