رحمت کو ان کی جوش میں لانے کی دیر ہے
یعنی سر نیاز جھکانے کی دیر ہے
پینے کی دیر ہے نہ پلانے کی دیر ہے
ساقی کے بس نگاہ اٹھانے کی دیر ہے
پروانے آہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشق
محفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے
آنکھوں میں دم ہے آخری ہچکی کا وقت ہے
او بے نیاز بس ترے آنے کی دیر ہے
خود مضطرب ہیں بادہ و ساغر کی جھلکیاں
ساقی کی سمت ہاتھ بڑھانے کی دیر ہے
وہ بھی تڑپ نہ جائیں تو اس عاشقی پر خاک
مجھ سے فقط نگاہ ملانے کی دیر ہے
جام شراب مست گھٹا مطرب و بہار
سب آ چکے ہیں آپ کے آنے کی دیر ہے
چلمن کی بندشوں میں وہ شاہد نہ رک سکیں
ماہرؔ کے صرف شعر سنانے کی دیر ہے
ماہر القادری