MOJ E SUKHAN

رحمت کو ان کی جوش میں لانے کی دیر ہے

رحمت کو ان کی جوش میں لانے کی دیر ہے
یعنی سر نیاز جھکانے کی دیر ہے

پینے کی دیر ہے نہ پلانے کی دیر ہے
ساقی کے بس نگاہ اٹھانے کی دیر ہے

پروانے آہی جائیں گے کھنچ کر بہ جبر عشق
محفل میں صرف شمع جلانے کی دیر ہے

آنکھوں میں دم ہے آخری ہچکی کا وقت ہے
او بے نیاز بس ترے آنے کی دیر ہے

خود مضطرب ہیں بادہ و ساغر کی جھلکیاں
ساقی کی سمت ہاتھ بڑھانے کی دیر ہے

وہ بھی تڑپ نہ جائیں تو اس عاشقی پر خاک
مجھ سے فقط نگاہ ملانے کی دیر ہے

جام شراب مست گھٹا مطرب و بہار
سب آ چکے ہیں آپ کے آنے کی دیر ہے

چلمن کی بندشوں میں وہ شاہد نہ رک سکیں
ماہرؔ کے صرف شعر سنانے کی دیر ہے

ماہر القادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم