MOJ E SUKHAN

خاک کے کچھ منتشر ذروں کو انساں کر دیا

خاک کے کچھ منتشر ذروں کو انساں کر دیا
اس نے جس جلوے کو جب چاہا نمایاں کر دیا

اس نے ہنس کر خود ہی زلفوں کو پریشاں کر دیا
میں یہ سمجھا میں نے قاتل کو پشیماں کر دیا

موسم گل میں یہ کیا اے یاد جاناں کر دیا
میرے چاک دل کو پھولوں کا گریباں کر دیا

ناامیدی کے چراغوں کو فروزاں کر دیا
اس نے دل کی آخری مشکل کو آساں کر دیا

خاک کے پردے میں انساں بن کے ظاہر ہو گئی
وہ تجلی جس نے آئینوں کو حیراں کر دیا

رخ پہ زلفیں چھوڑ کر وہ مسکرائے اس طرح
کفر تو پھر کفر ہے ایماں کو ایماں کر دیا

آہ نکلی تھی کہ دل کی آڑ سے آئی صدا
تو نے پھر ناداں شکست عہد و پیماں کر دیا

اک پیام عشق ہے ماہرؔ مری فکر سخن
شعر کے پردے میں درد دل نمایاں کر دیا

ماہر القادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم