MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

شہیدوں کا ترے شہرہ زمیں سے آسماں تک ہے

غزل

شہیدوں کا ترے شہرہ زمیں سے آسماں تک ہے
فلک سے بلکہ آگے بڑھ کے تیرے آستاں تک ہے

جمال جاں فزا کا ان کے دل کش دل ربا جلوہ
زمیں سے آسماں تک ہے مکاں سے لا مکاں تک ہے

رہیں سب مطمئن گلشن میں اپنے آشیانوں سے
کہ جولاں گاہ بجلی کی ہمارے آشیاں تک ہے

نصیحت پر عمل خود بھی تو کرنا چاہئے واعظ
اثر کیا ہو کہ تیرا وعظ تو نوک زباں تک ہے

مسلمانی فقط تسبیح خوانی ہی نہیں ہمدم
مسلمانی کا لمبا ہاتھ شمشیر و سناں تک ہے

بڑھاپا فکر پر آئے تو نکبت ساتھ آتی ہے
ترقی اور عظمت قوم کی فکر جواں تک ہے

فقط دنیا ہی اس کی گونج کا حلقہ نہیں ہرگز
تری حمد و ثنا کی گونج گلزار جناں تک ہے

میں ہوں پیغام حق اسلام میرا نام نامی ہے
جہاں تک ہے یہ دنیا میرا حلقہ بھی وہاں تک ہے

وہی الفاظ ہیں موزوں اگر ہوں شعر ہوتے میں
حقیقت شاعری کے فن کی بس حسن بیاں تک ہے

طویل اتنی ہے زنجیر اسیری اس زمانے میں
کہ حاضر قید خانے میں عروجؔ ناتواں تک ہے

عروج قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم