MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

ہم نے اپنے آپ سے جب بات کی

غزل ہم نے اپنے آپ سے جب بات کی آ گئی رستے میں اک دیوار سی اپنے دروازے پہ دستک دے کوئی ایک سناٹے پہ دنیا کھو گئی کون سے نقطے پہ لا کر توڑتے عمر رفتہ تیری یادوں کی کڑی کس کو جاکر ہم بتائیں سانحہ کھا رہی ہے ہم کو اپنی زندگی دردؔ […]

ہم نے اپنے آپ سے جب بات کی Read More »

اب ہم چراغ بن کے سر راہ جل اٹھے

غزل اب ہم چراغ بن کے سر راہ جل اٹھے دیکھیں تو کس طرح سے بھٹکتے ہیں قافلے جو منتظر تھے بات کے منہ دیکھتے رہے خاموش رہ کے ہم تو بڑی بات کہہ گئے کب منزلوں نے چومے قدم ان کے ہمدمو ہر راہ روکے ساتھ جو رہ گیر چل پڑے جانے زباں کی

اب ہم چراغ بن کے سر راہ جل اٹھے Read More »

اب تو سوچ لیا ہے یارو دل کا خوں ہو جانے دوں

غزل اب تو سوچ لیا ہے یارو دل کا خوں ہو جانے دوں جن لوگوں نے درد دیا ہے میں ان کو افسانے دوں اور ذرا سی دیر میں تھک کر سو جائیں گے تارے بھی کب تک گھائل ہونٹوں کو میں گیت برہ کے گانے دوں اپنے جنوں کا سینہ چھلنی ہونے دوں میں

اب تو سوچ لیا ہے یارو دل کا خوں ہو جانے دوں Read More »

تم نے ہمارا ساتھ دیا تو خود کو ہم پا جائیں گے

غزل تم نے ہمارا ساتھ دیا تو خود کو ہم پا جائیں گے ورنہ اپنی ذات سے ہمدم پھر دھوکا کھا جائیں گے کڑی دھوپ میں ہم لے آئے اپنے کومل گیتوں کو ان کے پھول سے چہرے دیکھیں دھوپ میں کمھلا جائیں گے آنکھیں موند کے چلنے والے دھن کے پکے نکلے تو چلتے

تم نے ہمارا ساتھ دیا تو خود کو ہم پا جائیں گے Read More »

تنہائی میں دکھتے لمحے جب کچھ یاد دلاتے ہیں

غزل تنہائی میں دکھتے لمحے جب کچھ یاد دلاتے ہیں سائے سائے کتنے چہرے آنکھوں میں پھر جاتے ہیں اب تو اچھے دل والوں کا قحط سا پڑتا جاتا ہے لیکن نقلی چہرے والے دل اپنا بھرماتے ہیں چھو جاتی ہے جب بھی آ کر یادوں کی پروائی سی ننھے ننھے کتنے دیپک پلکوں میں

تنہائی میں دکھتے لمحے جب کچھ یاد دلاتے ہیں Read More »

ہیں کس لیے اداس کوئی پوچھتا نہیں

غزل ہیں کس لیے اداس کوئی پوچھتا نہیں رستہ خود اپنے گھر کا ہمیں سوجھتا نہیں نقش وفا کسی کا کوئی ڈھونڈھتا نہیں اہل وفا کا پھر بھی بھرم ٹوٹتا نہیں اہل ہنر کی بات تھی اہل نظر کے ساتھ اب تو کوئی بھی ان کی طرف دیکھتا نہیں ہم سے ہوئی خطا تو برا

ہیں کس لیے اداس کوئی پوچھتا نہیں Read More »

بہت اکتا گیا ہوں اپنے جی سے

غزل بہت اکتا گیا ہوں اپنے جی سے مرا دل بھر گیا ہے ہر کسی سے بہ زعم خود اجل سے میں لڑا ہوں بہ زعم خود میں ہارا زندگی سے نہ جانے کس گلی میں کھو گیا ہوں میں کٹ کر آپ اپنی زندگی سے مرا ماضی مری یادیں کہاں ہیں یہ پوچھوں اب

بہت اکتا گیا ہوں اپنے جی سے Read More »

جانے کتنا جیون پیچھے چھوٹ گیا انجانے میں

غزل جانے کتنا جیون پیچھے چھوٹ گیا انجانے میں اب تو کچھ قطرے ہیں باقی سانسوں کے پیمانے میں اپنی پیاس لیے ہونٹوں پر لوٹ آئے میخانے میں کتنے تشنہ لب بیٹھے تھے پہلے ہی میخانے میں کیا کیا روپ لیے رشتوں نے کیسے کیسے رنگ بھرے اب تو فرق نہیں کچھ لگتا اپنے اور

جانے کتنا جیون پیچھے چھوٹ گیا انجانے میں Read More »

دل سے مری یادوں کو رہا کیوں نہیں کرتے

غزل دل سے مری یادوں کو رہا کیوں نہیں کرتے تم پھول سے خوشبو کو جدا کیوں نہیں کرتے رشتوں کے بکھرنے کا سبب ہم سے نہ پوچھو تم خود ہی بتاؤ کہ وفا کیوں نہیں کرتے برسوں سے کوئی خط نہیں آیا مرے گھر پر اب نامہ یہاں لوگ لکھا کیوں نہیں کرتے جو

دل سے مری یادوں کو رہا کیوں نہیں کرتے Read More »

اس زندگی سے کوئی شکایت نہیں مجھے

غزل اس زندگی سے کوئی شکایت نہیں مجھے کہتی ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے ہوں سوتے جاگتے ترے بارے میں سوچتی کیسے کہوں کہ تیری ضرورت نہیں مجھے دل دے دیا تھا پہلی ملاقات میں تجھے یہ بات ماننے میں ندامت نہیں مجھے آنکھیں سوائے تیرے نہیں دیکھتی ہیں کچھ اک پل

اس زندگی سے کوئی شکایت نہیں مجھے Read More »