MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم نے گھٹتا بڑھتا سایا پگ پگ چل کر دیکھا ہے

غزل

ہم نے گھٹتا بڑھتا سایا پگ پگ چل کر دیکھا ہے
ہر راہی اک دھندلا پن ہے ہر جادہ اک دھوکا ہے

ہم بھی کسی لمحے کی انگلی تھام کے اک دن چل دیں گے
تو نے تو اے جانے والے جانے کو کیا جانا ہے

ماضی کی بے نام گپھا میں بیٹھے بیٹھے سوچتے ہیں
نگر نگر ہے شہرت اپنی گھر گھر اپنا چرچا ہے

ہم تم دونوں دوست پرانے صدیوں کی مجبوری کے
اس سے بڑھ کر تم ہی بولو اور بھی کوئی رشتہ ہے

آتے جاتے ہر راہی سے پوچھ رہا ہوں برسوں سے
نام ہمارا لے کر تم سے حال کسی نے پوچھا ہے

خود کو پانے کی چنتا نے گیان جگایا دوری کا
گھر اپنا ہے شہر پرایا بیچ میں لمبا رستا ہے

وشو ناتھ درد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم