MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

خدا کی راہ میں قربان کی ہے زندگی میں نے

خدا کی راہ میں قربان کی ہے زندگی میں نےیہ وہ غم ہے کہ اس غم پر لٹائی ہر خوشی میں نے ہواؤں میں جلایا ہے چراغ زندگی میں نےچراغ زندگی کو دل سے دی ہے روشنی میں نے ابھی کھینچنے نہ پائی تھی کہ صہبا تاک لی میں نےکوئی پینے نہ پایا تھا کہ […]

خدا کی راہ میں قربان کی ہے زندگی میں نے Read More »

خدا کو خود بہ خود جو غالب سمجھ نہیں سکتا

خدا کو خود بہ خود جو غالب سمجھ نہیں سکتاوہ علم حق کے مطالب سمجھ نہیں سکتا وہ ہے صنم کدۂ ممکنات میں آذرجو راز ہستیٔ واجب سمجھ نہیں سکتا جو وہم غیر میں ہے اپنے آپ سے محجوبہے خود حجاب کہ حاجب سمجھ نہیں سکتا سمجھ رہا ہے جو عقل شکستہ پا کو خضرجنوں

خدا کو خود بہ خود جو غالب سمجھ نہیں سکتا Read More »

جو حق سے دور ہے وہ حق سمجھ نہیں سکتا

جو حق سے دور ہے وہ حق سمجھ نہیں سکتاسوائے ذق ذق‌ و بق بق سمجھ نہیں سکتا جو اپنی ہستی محدود کا ہے زندانیوہ رند ہستی مطلق سمجھ نہیں سکتا ورائے فہم بھی مفہوم کا تقید ہےبہ قید فہم جو مطلق سمجھ نہیں سکتا سمجھ سکا نہ جو حق کی کھلی ہوئی آیاتحدیث مبہم

جو حق سے دور ہے وہ حق سمجھ نہیں سکتا Read More »

وہ تیری نگاہوں کا عالم جو مست کن و مستانہ تھا

وہ تیری نگاہوں کا عالم جو مست کن و مستانہ تھامے خانے کا مے خانہ تھا پیمانے کا پیمانہ تھا آبادیٔ دل کا عالم بھی اک خواب تھا یا افسانہ تھاجب آنکھ لگی کاشانہ تھا جب آنکھ کھلی ویرانہ تھا موقوف تھی دل کی حالت پر ویرانی بھی آبادی بھیویرانہ بھی کاشانہ تھا کاشانہ بھی

وہ تیری نگاہوں کا عالم جو مست کن و مستانہ تھا Read More »

عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب اَفکار تو

عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب اَفکار تو کھلتے ہیں غلاموں پہ وہ اَسرار کہ رہتے ہیں وہ توصیف و ثنائے شہہِ ابرار میں ہر لحظہ گُہر بارورنہ وہ سید عالی نسبی، ہاں وہی امّی لقبی، ہاشمی و مطّلبی و عربی و قرشی و مدنی اور کہاں ہم سے گنہ گار آرزو یہ ہے

عشق کے رنگ میں رنگ جائیں جب اَفکار تو Read More »

خدا کا ذکر کرے ذکرِ مصطفیٰ نہ کرے

خدا کا ذکر کرے ذکرِ مصطفیٰ نہ کرےہمارے منہ میں ہو ایسی زباں خدا نہ کرے درِ رسول پہ ایسا کبھی نہیں دیکھاکوئی سوال کرے اور وہ عطا نہ کرے کہا خدا نے شفاعت کی بات محشر میںمرا حبیب کرے کوئی دوسرا نہ کرے مدینے جا کے نکلنا نہ شہر سے باہرخدانخواستہ یہ زندگی وفا

خدا کا ذکر کرے ذکرِ مصطفیٰ نہ کرے Read More »

جو ان پر ہو تصدق زندگی بھی

جو ان پر ہو تصدق زندگی بھیابھی کھل جائے یہ دل کی کلی بھی رسولِ پاک کی عظمت کے آگےپشیماں ہے غرورِ آگہی بھی محمد غم کے ماروں کا سہاراوہیں تک ہے ہماری بندگی بھی تمہیں تو وجہ تخلیقِ جہاں ہوتمہیں ہو دو جہاں کی روشنی بھی ہر آہ سرد میں مضمر ہے ساقیؔثبوت انتہائے

جو ان پر ہو تصدق زندگی بھی Read More »

جب طبیعت غم وآلام سے گھبرائی ہے

جب طبیعت غم وآلام سے گھبرائی ہےہر نفس یادِ محمد میرے کام آئی ہے جس کا دل تیری محبت کا تمنائی ہےکب اسے چین ہے کب تاب شکیبائی ہے آسماں پر شبِ معراج بہارآئی ہےنور ہے حسن ہے تو ہے تیری یکتائی ہے تاکہ مل جائے سکوں تاکہ میسر ہو قراریوں ترے در کا ہر

جب طبیعت غم وآلام سے گھبرائی ہے Read More »

گو نقوشِ صفحۂ ہستی مٹا سکتا ہوں میں

گو نقوشِ صفحۂ ہستی مٹا سکتا ہوں میںیاد تیری یار لیکن کب بھلا سکتا ہوں میں تم کو یہ دعویٰ تیرے دل کو مٹا سکتا ہوں میںمجھ میں یہ قدرت ہے تم کو دل بنا سکتا ہوں میں جب کبھی تم روٹھ جاؤ تو منانے کے لئےآنسوؤں کے لاکھ دریا بھی بہا سکتا ہوں میں

گو نقوشِ صفحۂ ہستی مٹا سکتا ہوں میں Read More »

انتہائے عاشقی ہے آج کل

انتہائے عاشقی ہے آج کلخود انہیں بھی بے کلی ہے آج کل جتنا پانی ڈالئے بھڑکے گی اورآگ وہ دل میں لگی ہے آج کل وہ نہیں گویا کہ دنیا ہی نہیںزندگی بے لطف سی ہے آج کل سنتا ہوں بے چین ہیں میرے بغیرگویا قسمت جگ گئی ہے آج کل وہ مجسم زندگانی ہیں

انتہائے عاشقی ہے آج کل Read More »