MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خدا کی راہ میں قربان کی ہے زندگی میں نے

خدا کی راہ میں قربان کی ہے زندگی میں نے
یہ وہ غم ہے کہ اس غم پر لٹائی ہر خوشی میں نے

ہواؤں میں جلایا ہے چراغ زندگی میں نے
چراغ زندگی کو دل سے دی ہے روشنی میں نے

ابھی کھینچنے نہ پائی تھی کہ صہبا تاک لی میں نے
کوئی پینے نہ پایا تھا کہ پی اور خوب پی میں نے

وہی تشبیہ دی تو نے وہی تشبیہ دی میں نے
رہے گا ذات میں کیا جب صفت ہی چھین لی میں نے

سمجھتا ہوں تجھے دیکھا تجھے پوجا خبر کیا تھی
ترے آئینے میں اپنی ہی صورت دیکھ لی میں نے

مرے مسلک میں خود کو بھولنا حق کو بھلانا ہے
خدا دانی کو پایا معنی خود آگہی میں نے

مرے پیش نظر آئینہ خانے کی حقیقت ہے
ہزاروں اور لاکھوں میں بھی دیکھا ایک ہی میں نے

یہ عکس و آئینہ ذی صورت و صورت کی وحدت بھی
سمجھنے اور سمجھانے کی باتیں جو ہیں کی میں نے

حریم کبریا میں باریابی ان کو کیا ہوگی
حریم دل میں دیکھی ہے دلوں کی نارسی میں نے

ذہین شاہ تاجی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم