MOJ E SUKHAN

جو حق سے دور ہے وہ حق سمجھ نہیں سکتا

جو حق سے دور ہے وہ حق سمجھ نہیں سکتا
سوائے ذق ذق‌ و بق بق سمجھ نہیں سکتا

جو اپنی ہستی محدود کا ہے زندانی
وہ رند ہستی مطلق سمجھ نہیں سکتا

ورائے فہم بھی مفہوم کا تقید ہے
بہ قید فہم جو مطلق سمجھ نہیں سکتا

سمجھ سکا نہ جو حق کی کھلی ہوئی آیات
حدیث مبہم و مغلق سمجھ نہیں سکتا

جمال حق کو بجز حق کوئی نہ دیکھے گا
کلام حق کو بجز حق سمجھ نہیں سکتا

صفت کی ذات سے نسبت جسے نہیں معلوم
وہ ربط دجلہ و ذورق سمجھ نہیں سکتا

ظہور میں نظر آیا نہ جس کو الظاہر
وہ فرق مصدر و مشتق سمجھ نہیں سکتا

ذہینؔ فہم نہ ہو فہم حق میں جب تک گم
حقیقت حق و نا حق سمجھ نہیں سکتا

ذہین شاہ تاجی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم