MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خدا کو خود بہ خود جو غالب سمجھ نہیں سکتا

خدا کو خود بہ خود جو غالب سمجھ نہیں سکتا
وہ علم حق کے مطالب سمجھ نہیں سکتا

وہ ہے صنم کدۂ ممکنات میں آذر
جو راز ہستیٔ واجب سمجھ نہیں سکتا

جو وہم غیر میں ہے اپنے آپ سے محجوب
ہے خود حجاب کہ حاجب سمجھ نہیں سکتا

سمجھ رہا ہے جو عقل شکستہ پا کو خضر
جنوں کے جاہ و مناصب سمجھ نہیں سکتا

کلام حق کی صفت ہے ذہینؔ میرا کلام
نہ ہو خدا کا جو طالب سمجھ نہیں سکتا

خدا ہے فہم سے بالا سمجھ نہیں سکتا
سمجھ رہا ہے جو سمجھا سمجھ نہیں سکتا

گزر ذہینؔ کے دل میں نہیں ہوا جس کا
خدا کے دل کی تمنا سمجھ نہیں سکتا

ذہین شاہ تاجی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم