MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

کہاں کہاں ہے خدا جانے رابطہ دل کا

کہاں کہاں ہے خدا جانے رابطہ دل کادماغ سے نہیں ہوگا مقابلہ دل کا علاج تیرے تغافل نے کر دیا دل کابہت دنوں سے دماغ آسماں پہ تھا دل کا تم انتظام کروگے بتاؤ کیا دل کایہاں تو خود نہیں معلوم مدعا دل کا عجیب لوگ ہیں یہ دل کو کیا سمجھتے ہیںطبیب جسم میں […]

کہاں کہاں ہے خدا جانے رابطہ دل کا Read More »

رخ ہوا کا یہ کہ جیسے اس کو آسانی پڑے

رخ ہوا کا یہ کہ جیسے اس کو آسانی پڑےدل کی آگ ایسی کہ ہم کو روز سلگانی پڑے نور ہو اندر تو باہر مات کیوں کھانی پڑےوہ تجلی کیا میاں جو طور سے لانی پڑے زندگی کی قدر تب تم پر کھلے گی دوستواس کے کوچے سے جب ایک اک سانس منگوانی پڑے ایک

رخ ہوا کا یہ کہ جیسے اس کو آسانی پڑے Read More »

سمجھتے کیا ہیں ان دو چار رنگوں کو ادھر والے

سمجھتے کیا ہیں ان دو چار رنگوں کو ادھر والےترنگ آئی تو منظر ہی بدل دیں گے نظر والے اسی پر خوش ہیں کہ اک دوسرے کے ساتھ رہتے ہیںابھی تنہائی کا مطلب نہیں سمجھے ہیں گھر والے ستم کے وار ہیں تو کیا قلم کے دھار بھی تو ہیںگزارہ خوب کر لیتے ہیں عزت

سمجھتے کیا ہیں ان دو چار رنگوں کو ادھر والے Read More »

سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی

سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئیاور اس کے ساتھ گرمئ جذبات بھی گئی اس نے مری کتاب کا دیباچہ پڑھ لیااب تو کبھی کبھی کی ملاقات بھی گئی میں آسماں پہ جا کے بھی تارے نہ لا سکاتم بھی گئے اداس مری بات بھی گئی ہم صوفیوں کا دونوں طرف سے زیاں ہواعرفان

سردی بھی ختم ہو گئی برسات بھی گئی Read More »

تبھی آئے گی لبوں پر مرے دل کی بات کھل کے

تبھی آئے گی لبوں پر مرے دل کی بات کھل کےمری ذات سے ملے جب تری کائنات کھل کے مرا عشق ہے بس اتنا کہ جگائیں کوئی فتنہترے ہونٹ بند ہو کے مری خواہشات کھل کے مجھے باندھ کر جنہوں نے سر طاق رکھ دیا ہےکبھی خود بیاں کروں گا میں وہ سب نکات کھل

تبھی آئے گی لبوں پر مرے دل کی بات کھل کے Read More »

اس بے وفا کا شہر ہے اور وقت شام ہے

اس بے وفا کا شہر ہے اور وقت شام ہےایسے میں آرزو بڑی ہمت کا کام ہے ہم کو بھی چھوڑتا ہوا آگے نکل گیاجذبوں کا قافلہ بھی بڑا تیز گام ہے بے آرزو بھی خوش ہیں زمانے میں بعض لوگیاں آرزو کے ساتھ بھی جینا حرام ہے لفظوں کی جان چھوڑ دے مفہوم کو

اس بے وفا کا شہر ہے اور وقت شام ہے Read More »

اس کے آنے پہ بھی نہیں آئی

اس کے آنے پہ بھی نہیں آئی درد میں کچھ کمی نہیں آئی عمر بھر دوستوں نے محنت کیپر ہمیں دوستی نہیں آئی اپنے ہی گھر پہ آ نکلتے ہیںہم کو آوارگی نہیں آئی دوستوں کے کسی لطیفے پرآج ہم کو ہنسی نہیں آئی ہم کو بھی شوق زندگی کا تھاکیا کہیں راس ہی نہیں

اس کے آنے پہ بھی نہیں آئی Read More »

اس کو نہ خیال آئے تو ہم منہ سے کہیں کیا

اس کو نہ خیال آئے تو ہم منہ سے کہیں کیاوہ بھی تو ملے ہم سے ہمیں اس سے ملیں کیا لشکر کو بچائیں گی یہ دو چار صفیں کیااور ان میں بھی ہر شخص یہ کہتا ہے ہمیں کیا یہ تو سبھی کہتے ہیں کوئی فکر نہ کرنایہ کوئی بتاتا نہیں ہم کو کہ

اس کو نہ خیال آئے تو ہم منہ سے کہیں کیا Read More »

وجدان میں وہ آیا الہام ہوا مجھ کو

وجدان میں وہ آیا الہام ہوا مجھ کومیں بھول گیا اس کو وہ بھول گیا مجھ کو اب ڈوب ہی جانے دے اتنا نہ گرا مجھ کوشرمندہ نہ کر ڈالے تنکے کی انا مجھ کو میں گمشدہ لوگوں کی فہرست میں دب جاتاوہ تو مرے دشمن نے پہچان لیا مجھ کو اس عہد میں کیا

وجدان میں وہ آیا الہام ہوا مجھ کو Read More »

یہاں تو قافلے بھر کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں

یہاں تو قافلے بھر کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیںسبھی چلتے ہوں جس پر ہم وہ رستہ چھوڑ دیتے ہیں قلم میں زور جتنا ہے جدائی کی بدولت ہےملن کے بعد لکھنے والے لکھنا چھوڑ دیتے ہیں کبھی سیراب کر جاتا ہے ہم کو ابر کا منظرکبھی ساون برس کر بھی پیاسا چھوڑ دیتے ہیں زمیں

یہاں تو قافلے بھر کو اکیلا چھوڑ دیتے ہیں Read More »