MOJ E SUKHAN

جیسے کشتی اور اس پر بادباں پھیلے ہوئے

جیسے کشتی اور اس پر بادباں پھیلے ہوئے
میرے سر پر اس طرح ہیں آسماں پھیلے ہوئے

چل رہے ہیں دھوپ سے تپتی ہوئی سڑکوں پہ لوگ
اور سائے سائباں در سائباں پھیلے ہوئے

دیکھیے کب تک رہے تنہا پرندے کی اڑان
ہیں سمندر ہی سمندر بے کراں پھیلے ہوئے

جاگتی آنکھوں کے خواب اور تیرے بالوں کے گلاب
میرے بستر پر ہیں اب بھی میری جاں پھیلے ہوئے

سانحہ یہ ہے کہ اب تک واقعہ کوئی نہیں
تذکرے ہیں داستاں در داستاں پھیلے ہوئے

میں تو ساری عمر اس کی سمت ہی چلتا رہا
فاصلے ہیں پھر بھی زلفیؔ درمیاں پھیلے ہوئے

تسلیم الٰہی زلفی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم