MOJ E SUKHAN

اس کے مرے مزاج کا ملنا محال تھا

اس کے مرے مزاج کا ملنا محال تھا
اک ساتھ عمر بھر جو رہے یہ کمال تھا

ٹوٹا نہ روٹھ روٹھ کے ملنے کا سلسلہ
اس کو بھی تھا خیال مجھے بھی خیال تھا

سوچوں کے زاویے تو جدا سب ہی تھے مگر
وہ پیکرِ جمال بڑا بے مثال تھا

بگڑی ہوئی وہ بات بناتا تھا کس قدر
لہجوں میں اس نے پایا بہت اعتدال تھا

حد درجہ زندگی وہ سلیقے سے کر گیا
میں کچھ بھی کر نہ پایا مجھے یہ ملال تھا

خاور تلاش کیوں ہے کسی چارہ گر کی اب
اس کی رفاقتوں کا اثر لازوال تھا

خاور کمال صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم