MOJ E SUKHAN

Author name: Moj e Sukhan

عرض ہے التجا ہے مِنت ہے

عرض ہے التجا ہے مِنت ہے بس مجھے آپ کی ضرورت ہے کوئی الزام مجھ پہ دھر دیجے یہ بھی میرے لیئے غنیمت ہے ذکر میرا کیا کریں سب سے دل کا ارمان ہے یہ حسرت ہے آپ کو بیر تو نہیں مجھ سے ؟ یہ علامت برائے الفت ہے خیر اب جو بھی ہو […]

عرض ہے التجا ہے مِنت ہے Read More »

تحدیثِ نعمت- نعت کے تخلیقی زاویے

ریاض حسین چودھری دہلیز مصطفیٰؐ سے احساس کا رزقِ شعور زندگی کے ریگ زاروں میں تنہا کھڑا ہوں، سوا نیزے پر یاسیت کا سورج آگ برسا رہا ہے۔ اپنے ارد گرد نظر دوڑاتا ہوں تو محرومیوں اور ناکامیوں کی خاک کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ جلے خیموں سے اُٹھنے والا دھواں منظر نامے کے

تحدیثِ نعمت- نعت کے تخلیقی زاویے Read More »

خواب کا سلسلہ بڑھاتے پھول

خواب کا سلسلہ بڑھاتے پھولشاخ سے ٹوٹ ہی نہ جاتے پھول عمر بھر آس کی منڈیروں سےمیری کھڑکی تلک بھی آتے پھول اپنی خوشبو کی رہنمائی سےشب ڈھلے راستہ دکھاتے پھول تم نے دیکھا خزاں کے موسم میںدرد کی داستاں سناتے پھول میں نے دیکھے ہیں اپنی آنکھوں سےدیکھ کر تجھ کو مسکراتے پھول تسنیم

خواب کا سلسلہ بڑھاتے پھول Read More »

سرمئی شام کی تلاش میں ہوں

سرمئی شام کی تلاش میں ہوںایک گُل فام کی تلاش میں ہوں سفَرِ ہجر نے تھکا دیا ہےکوچہ و بام کی تلاش میں ہوں خاص لوگوں سے اب نہیں بنتیاس لیے عام کی تلاش میں ہوں خواب میں آنکھ اس کو دیکھ چکیاب فقط نام کی تلاش میں ہوں عشق تو کب کا ہو چکا

سرمئی شام کی تلاش میں ہوں Read More »

یونہی کہاں اے دوست سنورتا ہے آئنہ

یونہی کہاں اے دوست سنورتا ہے آئنہصورت کو میری روز ترستا ہے آئنہ گھر سے میں جب نکلتی ہوں بازار کام سےکیوں بن کے نگہبان نکلتا ہے آئنہ بیکار میں الجھتی ہوئی روز و شب کے ساتھبیکار روز و شب سے الجھتا ہے آئنہ حیرانگی سے دیکھنے لگتی ہوں اس کو میںحیراں جو مجھ کو

یونہی کہاں اے دوست سنورتا ہے آئنہ Read More »

عشق سمجھا ہے کس لیے آسان

عشق سمجھا ہے کس لیے آسانجس میں ہر لمحہ کھنچتی جائے جان خواب میں بھی مجھے ڈراتے ہیںرات کا وقت اور گلی سنسان دیکھ کر تجھ کو کِھل اٹھی ہوں میںآ گئ دیکھ میری جان میں جان تُو نے دیکھی ہیں غمزدہ آنکھیں؟تُو نے دیکھے ہیں مر چکے ارمان آج ملنے سے ہیں گریزاں لوگکل

عشق سمجھا ہے کس لیے آسان Read More »

آئنہ روشنی سے خالی ہے

آئنہ روشنی سے خالی ہےاپنی صورت بھی پہلے والی ہے ہجر نے کچھ نہیں بگاڑا مرابات جھوٹی یہ کس اچھالی ہے آسماں کیسے بانٹنا ہے ابگھر میں دیوار تو بنا لی ہے میں نے بیچی نہیں ہے میری نیندخواب کی آبرو بچا لی ہے اس کی قسمت سنہرے دن تسنیممیری قسمت میں رات کالی ہے

آئنہ روشنی سے خالی ہے Read More »

خواہشوں کا غبار تھم جائے

خواہشوں کا غبار تھم جائےاب مرا انتظار تھم جائے پھیلتے اک سراب کی صورتحالتِ بے کنار تھم جائے اب نظر آئے خواب کی منزلنیند کا انتشار تھم جائے سبز رت سے اگر علاقہ نہیںسرمئی سا حصار تھم جائے حرفِ انکار سے پرے تسنیممیرے لب پر قرار تھم جائے سیدہ تسنیم بخاری

خواہشوں کا غبار تھم جائے Read More »

ہر گھڑی بامِ چشم پر دکھ ہے

ہر گھڑی بامِ چشم پر دکھ ہےزندگی کیا ہے عمر بھر دکھ ہے جو ترے عشق سے نصیب ہوامجھ کو جاں سے عزیز تر دکھ ہے دکھ نے چھینی ہے خواب کی خواہشجس نے کی میری آنکھ تر دکھ ہے بھیڑ ہے غمزدہ پرندوں کیگھر کے آنگن میں اک شجر , دکھ ہے کیا کہوں

ہر گھڑی بامِ چشم پر دکھ ہے Read More »

رد نہ کر میرا التماس ابھی

رد نہ کر میرا التماس ابھیکچھ نہیں اور میرے پاس ابھی نیند کی قبر پر اترتا ہوادیکھیے خواب کا لباس ابھی وہ نہ آئے گا میری آنکھوں میںٹوٹ جائے گی میری آس ابھی پیاس ہونٹوں پہ دفن ہونے لگیاور خالی پڑا گلاس ابھی پیرہن چیتھڑے ہوا تسنیمکھیت میں ہے کھڑی کپاس ابھی سیدہ تسنیم بخاری

رد نہ کر میرا التماس ابھی Read More »